خانگی اسکولس میں غیر معمولی فیس وصولی پر اظہار تشویش

حکومت کو فوری توجہ دینے کا مشورہ ، حافظ پیر شبیر احمد کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 18 ۔ مئی : ( پریس نوٹ ) : جمعیتہ علماء تلنگانہ و آندھرا پردیش نے دونوں ریاستوں میں پرائیوٹ اسکولوں کی لوٹ مار کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ہندوستان ایک ویلفیر اسٹیٹ ہے جہاں ہر ایک کو مفت یا کم قیمت پر تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم ہونا ضروری ہے ۔ لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ دونوں ہی شعبوں میں عوام کو بے حد و حساب مالی بوجھ برداشت کرنا پڑرہا ہے ۔ صدر جمعیتہ علماء حافظ پیر شبیر احمد سابق رکن قانون ساز کونسل نے ایک بیان میں کہا کہ ماضی میں حکومت کی جانب سے عوام کے لیے مفت تعلیم کا انتظام تھا اور سرکاری اسکولوں اور کالجوں سے ہی ہمارے ماہرین نظم و نسق ، ڈاکٹر ، انجینئر ، وکلاء اور سائنسداں نکلے ہیں جنہوں نے عوام کی بے غرض اور مخلصانہ خدمت انجام دی ہے ۔ لیکن گذشتہ چار دہوں سے خانگی تعلیمی اداروں کا رجحان عام ہوا ہے جہاں بھاری فیس لے کر تعلیم دی جاتی ہے اور ان اداروں سے برآمد ہونے والے طلباء وطالبات اخلاص ، خدمت خلق اور انسانیت کی خدمت کے جذبات و احساسات سے عاری ہوتے ہیں ۔ حالیہ دو ایک دہوں سے تو تعلیمی شعبہ میں لوٹ مار بہت بڑھ گئی ہے اور نچلی جماعتوں سے ہی نہ صرف بھاری فیس وصول کی جارہی ہے بلکہ ایڈمیشن سے قبل ڈونیشن ، بلڈنگ فنڈ وغیرہ علحدہ سے وصول کئے جارہے ہیں اس کے علاوہ اسی اسکول سے کتابیں اور دیگر سامان اور یونیفارم خریدنے کا لزوم بھی ہے ۔ یہی حال کالجوں اور پیشہ وارانہ تعلیمی اداروں کا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ طلباء وطالبات کے سرپرست اپنے گاڑھے پسینہ کی کمائی تعلیمی اداروں کے مالکین کا جیب بھرنے کے لیے خرچ کرنے پر مجبور ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس پر مرکزی اور ریاستی حکومت دونوں کا کنٹرول ہوتاہے ۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ جس طرح مرکزی حکومت و ریاستی حکومت انجینئرنگ وغیرہ کورسیس کی فیس کا تعین کرتی ہے اسی طرح ہائی اسکول تک کی فیس کا بھی تعین کر کے اس کی پابندی کروائی جائے اور اس بات کی ضمانت دی جائے کہ تعلیمی اداروں میں صرف حکومت کی مقررہ فیس ہی وصول کی جائے گی ۔۔