حیدرآباد کی فہرست رائے دہندگان میں فرضی رائے دہندگان کی کثرت کا امکان

ملک کی مختلف ریاستوں میں فرضی ناموں کے انکشاف کے بعد حیدرآباد بھی شک کے دائرہ میں، سیاسی جماعتوں کی خطرناک کارستانی

حیدرآباد۔20جون(سیاست نیوز) ملک کی مختلف ریاستوں میں فہرست رائے دہندگان میں موجود فرضی ناموں کے منظر عام پر آنے کے بعد یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ شہر حیدرآباد میں بھی فرضی نام کی جو شکایات منظر عام پر آئی تھیں وہ غلط نہیں تھیں۔ فہرست رائے دہندگا ن کو بہتر بنانے کے اور نقائص سے پاک بنانے کیلئے ضروری ہے کہ اسے آدھار سے مربوط کیا جائے کیونکہ فہرست رائے دہندگان میں جو خامیاں ہیں ان میں سب سے بڑی خامی فرضی ناموں کی شمولیت اور ان ناموں کے متعلق صرف ان لوگوں کو جانکاری ہوتی ہے جنہوں نے یہ فرضی نام فہرست رائے دہندگان میں شامل کروائے ہیں اور یہ ووٹ کس کے ذریعہ ڈلوائے جانے ہوتے ہیں اس کا انتظام بھی اسی سیاسی جماعت کے کارکنوں کی جانب سے کیا جاتا ہے۔ حالیہ عرصہ میں کانگریس کی جانب سے کرناٹک ‘ مدھیہ پردیش اور راجستھان میں فہرست رائے دہندگان میں فرضی ناموں کی نشاندہی کے بعد ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی سیاسی جماعتیں چوکسی اختیار کرچکی ہیں۔ 2014عام انتخابات کے فوری بعد شہر حیدرآباد کے مختلف حلقہ جات اسمبلی سے مقابلہ کرنے والے امیدواروں نے بھی اس بات کی شکایات کی تھی کہ فہرست رائے دہندگان میں ایسے نام شامل ہیں جو بنیادی طور پر موجود ہی نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ عام انتخابات کے فوری بعد فہرست رائے دہندگان میں ایک ہی شخص کے مختلف پتوں پر اندراج کی بھی شکایات منظر عام پر آئی تھیں لیکن اس کے باوجود بھی ان شکایات کو یہ کہتے ہوئے نظر انداز کردیا گیا کہ اب تو انتخابات کا عمل مکمل ہو چکا ہے ۔انتخابی عمل سے قبل اگر سیاسی جماعتیں متحرک ہوتے ہوئے فہرست رائے دہندگان کو خامیوں سے پاک بنانے کے اقدامات کرتی ہے تو ایسی صور ت میں حالات تبدیل ہوسکتے ہیں اور سیاسی جماعتوں کے ذمہ دار جو فہرست رائے دہندگان میں خامیوں کی نشاندہی کے بعد شکایات درج کرو اچکے ہیں انہیں فوری طور پر متحرک ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کی شکایات کی اب قومی سطح پر مختلف ریاستوںمیں توثیق ہونے لگی ہے ۔ رائے دہندوں کی فہرست میں سیاسی کارکنوں اور ان کے افراد خاندان کے نام ایک سے زائد حلقہ جات اسمبلی میں موجود ہونے کے علاوہ ملک کے مختلف مقامات پر رہنے والوں کے نامو ں کو ایک پتہ پر بحیثیت رائے دہندہ درج کروایا گیا ہے اور اب بھی فہرست رائے دہندگان میں یہ خامیاں موجود ہیں ان خامیوں کو دور کرنے کیلئے ضروری ہے کہ فہرست رائے دہندگان کو آدھار سے مربوط کیا جائے کیونکہ حکومت کی جانب سے سرکاری اسکیمات میں دھاندلی کو روکنے کیلئے آدھار سے اسکیمات کو مربوط کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں لیکن فہرست رائے دہندگان میں موجود خامیوں سے ملک کے جمہوری عمل میں دھاندلیاں ہورہی ہیں اور جمہوریت کے نام نہاد محافظ ہی ان دھاندلیوں کے مرتکب بن رہے ہیں ۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی نگرانی میں تیار کی گئی فہرست رائے دہندگان میں بھی کئی خامیوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے لیکن سیاسی اثر و رسوخ کے باعث ان خامیوں کو دور کرنے کے بجائے معاملہ کو نظر انداز کرنے کی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے ۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین کا کہناہے کہ جی ایچ ایم سی حدود کی فہرست رائے دہندگان میں بھی ہزاروں فرضی رائے دہندوں کے نام موجود ہیں کیونکہ فہرست رائے دہندگان کی تنقیح کیلئے جن لوگوں کو بوتھ لیول آفیسربنیا گیا ان میں بیشتر سیاسی کارکن تھے۔ان سیاسی کارکنوں کے ذریعہ قائدین نے فہرست رائے دہندگان میں جو دھاندلیاں کی ہیں ان کی نشاندہی کی جا چکی ہے اور بعض سیاسی جماعتوں کے کارکن اس سلسلہ میں نمائندگی کرنے کے بعد عدالت سے رجوع ہونے کے متعلق غور کر رہے ہیں۔