حیدرآباد میں رائے دہی سے عوام کی عدم دلچسپی، کئی پولنگ بوتھ سنسان

ووٹرس کو لانے میں سیاسی جماعتوں کو دشواری، مستقبل میں رائے دہی کے فیصد میں مزید گراوٹ کا اندیشہ
حیدرآباد۔11 اپریل (سیاست نیوز) حیدرآباد لوک سبھا حلقہ میں آج رائے دہی کے سلسلہ میں عوام میں کوئی جوش و خروش نہیں دیکھا گیا۔ شدید گرمی کے علاوہ رائے دہی سے عوام کی عدم دلچسپی کا نتیجہ تھا کہ پولنگ اسٹیشنوں پر رائے دہندوں کی کوئی قطاریں نہیں دیکھی گئیں۔ پرانے شہر کے کئی علاقوں جو عام طور پر زائد رائے دہی کے لیے شہرت رکھتے ہیں، وہاں پولنگ بوتھس صبح 9 بجے تک بھی سنسان دکھائی دے رہے تھے۔ الیکشن کمیشن کے عہدیداروں کو رائے دہی کے آغاز کے لیے ووٹرس کا انتظار کرتے دیکھا گیا۔ پولنگ بوتھ پر موجود الیکشن ایجنٹ بھی عوام کی اس بے حسی اور عدم دلچسپی سے پریشان ہوکر اپنے مقامی قائدین کو فون پر اطلاع دے رہے تھے کہ کسی طرح ووٹرس کو روانہ کریں۔ کئی پولنگ اسٹیشنوں میں 10 بجے کے بعد کسی قدر بہتر رائے دہی دیکھی گئی۔ مرد رائے دہندوں کے مقابلہ خواتین کی تعداد انتہائی کم تھی۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ جیسے عوام تین ماہ بعد دوبارہ رائے دہی سے عاجز آچکے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ ہمیشہ کی طرح ان کے ووٹ کسی طرح استعمال ہوجائیں گے۔ دوپہر تک بھی پرانے شہر کے کئی پولنگ اسٹیشنوں میں 15 فیصد بھی رائے دہی نہیں ہوئی تھی۔ بعض پولنگ اسٹیشنوں میں محض 5 فیصد رائے دہی ابتدائی تین گھنٹوں میں ریکارڈ کی گئی۔ رائے دہی سے عدم دلچسپی کا یہ مظاہرہ کسی ایک علاقے میں نہیں بلکہ مسلم اور ہندو اکثریتی علاقوں میں یکساں طورپر دیکھا گیا۔ چند ایک مقامات پر مقامی سیاسی جماعت کے کارکنوں کو رائے دہندوں کو لانے کے سلسلہ میں مصروف دیکھا گیا۔ رائے دہندوں کو پولنگ بوتھ منتقل کرنے کے لیے آٹو رکشا کا انتظام رکھنے کے باوجود عوام میںکوئی دلچسپی نہیں تھی۔ گرمی کی شدت چوں کہ 3 بجے تک برقرار رہی۔ لہٰذا 4 بجے رائے دہی کی رفتار کسی قدر تیز ہوئی اور مرد و خواتین کو پولنگ اسٹشینوں کی طرف جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ انتخابی عملے کا کہنا تھا کہ وہ خود رائے دہندوں کی بے حسی پر حیرت میں ہیں کیوں کہ سابق میں وہ پرانے شہر میں 60 تا 70 فیصد رائے دہی کے وقت ڈیوٹی انجام دے چکے ہیں۔ نوجوان نسل میں بھی ووٹ کے استعمال کا کوئی جذبہ نہیں تھا۔ الیکشن کمیشن انہیں بہتر رائے دہی کے لیے ملک بھر میں شعور بیداری کی مہم چلائی اس کے علاوہ عوام کو رائے دہی میں حصہ لینے کے لیے حکومت کی جانب سے بااجرت عام تعطیل کا اعلان کیا گیا۔ تمام تجارتی ادارے اور دکانات بند رہے۔ اس کے باوجود لوگ ووٹ دینے کے لیے پولنگ اسٹیشن نہیں پہنچے۔ مسلم رائے دہی کے فیصد میں اضافہ کے لیے مذہبی شخصیتوں کے ذریعہ سوشل میڈیا اور اخبارات میں مہم چلائی گئی لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ ووٹ کے استعمال کو دستوری اور مذہبی فریضہ قرار دیتے ہوئے کئی مذہبی شخصیتوں نے رائے دہی میں حصہ لینے کی اپیل کی لیکن عوامی نمائندوں کی کارکردگی سے مایوس عوام پر ان اپیلوں کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اسمبلی انتخابات سے بھی کم رائے دہی آج ریکارڈ کی گئی۔ اگر رائے دہی سے عوامی عدم دلچسپی اور بے حسی کا یہی سلسلہ جاری رہا تو آئندہ پانچ برسوں بعد یہ فیصد مزید گھٹ جائے گا۔ عوامی نمائندوں کو اپنی کارکردگی کا محاسبہ کرنا چاہئے۔ محض خدمت کے ذریعہ ہی وہ عوام کا دل جیت سکتے ہیں اور یہی چیز رائے دہی میں اضافے کا سبب بنے گی۔