حیدرآباد کی ترقی پر کے سی آر کا دتاتریہ سے تبادلہ خیال

حیدرآباد 21 ڈسمبر ( این ایس ایس ) چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آج مرکزی وزیر لیبر و روزگار بنڈارو دتاتریہ سے یہاں ملاقات کی ۔ سمجھا جاتا ہے کہ دونوں قائدین حیدرآباد شہر کی ترقی کے بشمول کئی اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا اور ریاست میں نافذ کی جانے والی اسکیمات پر عمل آوری کیلئے مرکز سے فنڈز حاصل کرنے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا ۔ باخبر ذرائع نے کہا کہ دونوں قائدین نے آندھرا پردیش حکومت کے ساتھ متنازعہ مسائل جیسے برقی ‘ پانی اور دیگر وسائل کا فوری حل دریافت کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ دونوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ان مسائل کو مرکزی حکومت سے رجوع کیا جائیگا تاکہ ریاست کی ترقی اور غریب عوام کی فلاح و بہبود کیلئے ان مسائل کو قابل قبول انداز میں حل کیا جاسکے ۔ حیدرآباد شہر کو ایک بین الاقوامی معیار کا شہر بنانے اور کاروبار و صنعتوں کو بڑے پیمانے پر راغب کرنے کے اقدامات کا بھی دونوں قائدین نے بات چیت میں جائزہ لیا ۔ دونوں قائدین نے بڑے کاروباریوں اور صنعتوں کو صرف دو ہفتوں کے وقت میں اجازت نامہ دینے کے امکان پر غور کیا ہے ۔ چندر شیکھر راؤ نے دتاتریہ کو حسین ساگر کے اطراف بلند و بالا اسکائی کراپرس کی تعمیر اور رود موسی کے بہاؤ کو منتقل کرتے ہوئے اندرا پارک پر ونائک ساگر کے قیام کے منصوبوں سے بھی واقف کروایا جس کی بی جے پی اور دوسری جماعتوں نے ایک کل جماعتی اجلاس کے دوران مخالفت کی تھی ۔ حیدرآباد میٹرو ریل پراجیکٹ کی بر وقت تکمیل کے علاوہ سمجھا جاتا ہے کہ چندر شیکھر راؤ نے اس باوقار پراجیکٹ کی تکمیل کیلئے مرکزی وزیر سے تعاون طلب کیا اور کہا کہ اس سے حیدرآباد میں ٹریفک کا مسئلہ حل ہوگا اور آلودگی کی سطح بھی کم ہوگی ۔ دتاتریہ نے میٹرو ریل پراجیکٹ کیلئے 3,000 کروڑ روپئے کی امداد کی پیشکش کی ۔ دتا تریہ نے کہا کہ کہ اس کی نصف رقم کا انہوں نے چند دن پہلے ہی اعلان کردیا ہے ۔