حیدرآباد کنونشن سنٹر میں کل فلاور شو اور عالمی کنونشن کا افتتاح

عوام کو پھولوں کے شو میں ہزاروں اقسام کے مشاہدہ کا موقع ، عالمی کنونشن پر چیف منسٹر کا اظہار مسرت : احمد عالم خاں
گلاب کی کہانی
دنیابھر کے پھولوں میں سب سے زیادہ گلاب کی اہمیت ہے ۔ اس کی نزاکت رنگ و خوشبو اور نظروں کو خیرہ کردینے والی خوبصورتی کے باعث اسے محبت کی علامت کہا جاتا ہے ۔ گلاب کا پھول اپنے آپ میں ڈھیر سارے معنیٰ رکھتا ہے ۔ گلاب کی تاریخ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ 35 ملین برسوں سے انسانوں کے استعمال میں رہا ہے ۔ ہندوستان میں گلاب کی اپنی ایک منفرد تاریخ ہے ۔ بادشاہوں ، نوابوں ، راجہ رجواڑوں نے اسے اپنے محلات کی زینت بنایا ۔ 1247-1317 کے درمیان ایک ایرانی سیاح و مورخ راشد الدین نے ہندوستانی ریاست گجرات کا دورہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہاں لوگ 70 قسم کے گلاب استعمال کرتے ہیں ۔ 1537 میں جنوبی ریاست وجئے نگرم کا دورہ کرنے والے عالمی سیاحوں و مورخین نے لکھا ہے کہ ان لوگوں نے دیکھا کہ یہاں گلاب لوگوں کی روزمرہ زندگی کا ایک حصہ ہے ۔ مغل بادشاہ بابر کو گلاب اس قدر محبوب تھا کہ اس نے اپنے چار بیٹوں کے نام پھولوں کے نام گل رخ ، گل چہرہ ، گلبند اور گل رتک رکھے تھے ۔ ممتاز حکیم و دانشور ابن سینا کو ساری دنیا میں عرق گلاب ایجاد کرنے کا اعزاز حاصل ہے ۔۔
حیدرآباد ۔ 27 ۔ نومبر : ( محمد ریاض احمد) : پھولوں کا جب بھی ذکر چھڑتا ہے تو ماحول میں خوشبو تازگی محبت و الفت پاکیزگی اور مروت کا ایک غیر معمولی احساس پیدا ہوتا ہے ۔ خاص طور پر گلاب کے پھول ہندوستانیوں بالخصوص حیدرآبادیوں کی پہلی پسند ہوتے ہیں ویسے بھی ہندوستان اور پھولوں کا گہرا تعلق ہے ۔ صدیوں سے اس سرزمین کو گلاب کے پھول اپنی خوشبو سے معطر کررہے ہیں ۔ ہر دور میں یہاں گلاب کے پھولوں کو کافی اہمیت دی گئی ۔ خوشی اور غم میں اس کا استعمال عام ہے ۔ غرض ہندوستانیوں کے لیے پھول گلاب کافی اہمیت رکھتے ہیں ۔ ہمارے شہرحیدرآباد فرخندہ بنیاد کو اس بات کا احساس حاصل ہے کہ یہاں پھولوں کے قدر داں بہت ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ حیدرآبادیوں کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ جب وہ بات کرتے ہیں تو منہ سے پھول جھڑتے ہیں ۔ بہرحال ریاست تلنگانہ کے عوام کے لیے یہ خوش خبری ہے کہ حیدرآباد انٹرنیشنل کنونشن سنٹر میں 29 نومبر سہ پہر 3 بجے چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ آل انڈیا فلاور شو ( کل ہند سطح کے پھولوں کا شو ) کا افتتاح انجام دیں گے ۔ جس کا اہتمام انڈین روز فیڈیشن اور حیدرآباد روز سوسائٹی نے کیا ہے ۔ نئی ریاست تلنگانہ میں پہلی بار منعقد ہورہے اس فلاور شو کے بارے میں اس کے کرتا دھرتا جناب احمد عالم خاں نے جو انڈین روز فیڈریشن کے صدر اور ورلڈ فیڈریشن آف روز سوسائٹیز کے نائب صدر ہیں بتایا کہ 29 نومبر تا 2 دسمبر 2014 حیدرآباد انٹرنیشنل کنونشن سنٹر میں ورلڈ فیڈریشن آف روز سوسائٹیز کا علاقائی روز کنونشن منعقد ہوگا ۔ انہوں نے بتایا کہ آل انڈیا فلاور شو اور کنونشن دونوں کا افتتاح چیف منسٹر تلنگانہ انجام دیں گے ۔ جناب احمد عالم خاں کے مطابق اس کنونشن کا ہمارے ملک اور خاص طور پر نئی ریاست تلنگانہ میں منعقد کیا جانا ہمارے لیے ایک فخر کی بات ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کے ساتھی اس تاریخی کنونشن اور پھول شو کو کامیاب بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھ رہے ہیں ۔ خاص طور پر یہ کنونشن باری باری سے یوروپی ممالک میں منعقد کیا جاتا ہے ۔ لیکن انہوں نے ورلڈ فیڈریشن آف روز سوسائٹی کے اجلاس میں اس کے عہدیداروں اور ارکان کو حیدرآباد میں کنونشن منعقد کرانے کی کامیاب ترغیب دی جو ہماری نئی ریاست تلنگانہ کے لیے بھی ایک اعزاز ہے ۔ جناب احمد عالم خاں کا یہ کہنا ہے کہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ شہر میں پھول شو اور عالمی کنونشن منعقد کئے جانے کے بارے میں جان کر خوشی کا اظہار کیا اور ان سے وعدہ کیا کہ ان کی حکومت ان پروگرامس کو کامیاب بنانے کے لیے ممکنہ تعاون کرے گی ۔ انڈین روز فیڈریشن کے صدر کے مطابق دنیا بھر کے وفود نے ہندوستان کے دورہ کی خواہش کی چنانچہ اب تک سو سے زائد عالمی وفود نے اپنے نام درج کروائے ہیں ۔ اس طرح قومی و بین الاقوامی وفود کی تعداد 600 سے تجاوز کر گئی ہے ۔ جناب احمد عالم خاں نے مزید بتایا کہ کنونشن میں چین ، جاپان ، پاکستان ، سری لنکا ، سنگاپور ، اٹلی ، برطانیہ ، آسٹریلیا ، سوئٹزرلینڈ ، امریکہ اور ہندوستان کے ماہرین کے معلوماتی لکچرس ہوں گے ۔ وفود کو گلاب کے مقامی باغات کی سیر کرائی جائے گی ۔ یہ کنونشن ’’ گلاب کی قدیم دنیا پر نئی روش ‘‘ کے زیر عنوان منعقد کیا جارہا ہے ۔ کنونشن اور فلاور شو سے قبل وفود کے لیے بنگلور کے روز گارڈن ، اوٹی کے باغات ، سری رنگا پٹنم اور میسور کے مشہور تاریخی مقامات کے دورہ کا اہتمام کیا گیا ۔ امید ہے کہ یہ وفود آج حیدرآباد پہنچ جائیں گے ۔ 3 دسمبر سے مابعد کنونشن دورہ کے تحت حیدرآباد سے دہلی اور وہاں سے آگرہ اور جئے پور کی سیر کرائی جائے گی ۔ اس فلاور شو میں ملک کے مختلف مقامات بشمول جمشید پور ، کولکتہ ، جبلپور ، رانچی ، پونہ وغیرہ کے علاوہ گلاب کے مقامی شوقین حصہ لیں گے ۔ 30 نومبر کو یہ شو عوام کے لیے کھلا رہے گا ۔ جس میں کم از کم پندرہ ہزار سے زائد پھولوں کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے ۔ احمد عالم خاں نے بتایا کہ شہر کے باغبانوں ، گلاب اور دیگر پھولوں کے شوقین ، ان کی درآمد و برآمد کرنے والوں تاجرین و کسانوں کے لیے دنیا بھر کے ماہرین سے معلومات حاصل کرنے کا زرین موقع ہے ۔ مہاراشٹرا اور کرناٹک میں ایسے بے شمار لوگ ہیں جو اپنے باغات میں گلاب اور دیگر پھول اگاتے ہیں اور مغربی دنیا کو برآمد کرتے ہیں ۔ شہر میں کل سے شروع ہونے والے اس شو سے ہمارے شہریوں کو بہت فائدہ ہوگا ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ جناب احمد عالم خاں پھولوں ، پودوں اور درختوں سے بہت انسیت رکھتے ہیں شہر کے مضافاتی علاقہ میں ان کے اپنے فارم ہاوز میں ایک بہت بڑا روزگارڈن ہے جس میں ایک نہیں دو نہیں بلکہ 10 ہزار گلاب کے پودے ہیں ۔ انہوں نے پھولوں کے اس شو کے لیے مزید مختلف اقسام کے 15 ہزار گلاب کے پھول کے پودے جمع کئے ہیں ۔ احمد عالم خاں کو اس بات کا اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے انفرادی حیثیت سے پھولوں کا اتنا سارا ذخیرہ جمع کیا ہے جو شائد حکومتیں اور ادارے بھی جمع نہیں کرسکتے ۔۔