حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ کا کام تیزی سے جاری

اوپل میں اسٹیشن کی تعمیر تقریبا مکمل ، 72 کیلو میٹر کے احاطہ میں 66 اسٹیشن ، 17000 کروڑ لاگتی پراجکٹ کی آئندہ سال تکمیل
حیدرآباد ۔ 14 ۔ مئی : حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ پر کام تیزی سے جاری ہے اور توقع ہے کہ اوپل جیسے مقامات پر آئندہ ماہ جون میں میٹرو ٹرین کی آزمائش بھی کی جائے گی ۔ 17 ہزار کروڑ روپئے لاگتی اس پراجکٹ کو پبلک ۔ پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت پائے تکمیل کو پہنچ رہے دنیا کا سب سے بڑا پراجکٹ سمجھا جاتا ہے ۔ حیدرآباد میٹرو ریل کا اوپل میں تعمیر کیا جارہا ماڈل اسٹیشن اپنی تعمیر کے آخری مراحل میں پہنچ گیا ہے ۔ امید ہے کہ اس اسٹیشن کو ماہ جولائی میں عوام کے لیے کھولدیا جائے گا تاکہ حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ کے تحت تعمیر کئے جارہے 66 اسٹیشنوں کے بارے میں عوام کے خیالات سے آگہی حاصل کی جاسکے ۔ حیدرآباد میٹرو ریل کے اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ میٹرو کے ہر اسٹیشن کی تعمیر پر تقریبا 40 کروڑ روپئے کی لاگت آرہی ہے جب کہ 72 کیلو میٹر کا حاطہ کرنے والا یہ پراجکٹ تین راہداریوں کا حامل ہوگا اور 6 مرحلوں میں تعمیری کام کی تکمیل ہوگی ۔

حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ کے مینجنگ ڈائرکٹر این وی ایس ریڈی نے جاریہ ماہ کے اوائل میں بتایا تھا کہ اس پراجکٹ کے ذریعہ حیدرآباد کا شمار تمام عصری سہولتوں سے لیس ماحول دوست اور ترقی یافتہ شہروں میں ہوگا ۔ بتایا جاتا ہے کہ تمام 66 اسٹیشنوں پر خصوصی طور پر ڈیزائن کردہ لفٹس ، برقی پر دھیان اور عام روایتی سیڑھیوں کی تعمیر جاری ہے ۔ ہم نے حیدرآباد میٹرو ریل کی جن تین راہداریوں کا ذکر کیا ہے کہ اس میں پہلی راہداری میاںپور تا ایل بی نگر ہے جو 29 کیلو میٹر کا احاطہ کرے گی ۔ اس راہداری میں 27 اسٹیشن تعمیر کئے جارہے ہیں ۔ حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ کے مطابق راہداری II جے بی ایس تا فلک نما ہے جو 15 کیلو میٹر فاصلہ کا احاطہ کرے گی اس میں 16 اسٹیشنوں کی تعمیر کو یقینی بنایا جارہا ہے ۔ تیسری راہداری کے تحت ناگول تا شلپارمم کا علاقہ شامل ہے ۔ 28 کیلو میٹر فاصلہ کے حامل اس راہداری میں 23 اسٹیشنوں کی تعمیر کی جارہی ہے جو کہ امیر پیٹ ، پریڈ گراونڈ اور مہاتما گاندھی بس اسٹیشن پر تین مشترکہ ایچ ایم آر اسٹیشن ہوں گے ۔ ان اسٹیشنوں کے ڈیزائن کے بارے میں عہدہ داروں کا کہنا ہے کہ ان اسٹیشنوں کی اہم خوبی یہ ہے کہ صرف ان کے وسط میں ایک ستون رکھا گیا ہے ۔ اس کے برعکس بنگلور اور دہلی میٹرو اسٹیشنوں میں وسطی ستون کے علاوہ دونوں جانب ایک ایک ستون تعمیر کیا گیا ہے ۔ ہر اسٹیشن 20×140 میٹرحجم کا ہوگا جس میں میٹرو ریل کے 6 کوچس باآسانی سما سکتے ہیں ۔ اس بات کا بھی پتہ چلا ہے کہ جنوبی کوریا سے بوگیاں منگوائی گئیں ہیں اور امید ہے کہ عنقریب یہ بوگیاں حیدرآباد پہنچا دی جائیں گی اور جون سے بعض اسٹیشنوں پر میٹرو ٹرین آزمائشی طور پر چلائے جانے کا امکان بھی ہے ۔

میٹرو ریل کے اسٹیشنوں کے قریب ہی مسافرین کو پارکنگ کی سہولتیں فراہم کرنے کے منصوبہ کے تحت حکام ہر اسٹیشن کے قریب دو ایکڑ اراضی حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری اراضی کی عدم دستیابی کی صورت میں خانگی اراضیات حاصل کی جائیں گی ۔ تاحال 20 اسٹیشنوں کے لیے پارکنگ سہولتوں کی نشاندہی کر لی گئی ہے ۔ ایچ ایم آر کے مینجنگ ڈائرکٹر مسٹر این وی ایس ریڈی کے حوالہ سے ذرائع نے بتایا کہ حیدرآباد میٹرو ریل میں اے سی نہیں ہوگا ۔ شمسی توانائی استعمال کی جائے گی ۔ ماحولیات کے تحفظ کا خاص خیال رکھا جائے گا ۔ ذرائع کے مطابق ایچ ایم آر اسٹیشنوں کو چار زمروں میں تقسیم کرتے ہوئے تعمیر کیا جارہا ہے ۔ کچھ اسٹیشن 30 میٹر طویل ہوں گے ۔ بعض کی لمبائی 36 میٹر ، 45 میٹر اور 60 میٹر ہوگی ۔ اہم بات یہ ہے کہ ان اسٹیشنوں کو بعض ایم ایم ٹی ایس سرویس سے بھی مربوط کیا جائے گا ۔ مثال کے طور پر بھرت نگر ، بیگم پیٹ ، ملک پیٹ اور فلک نما کو ایچ ایم آر اسٹیشنوں سے مربوط کئے جانے کے امکانات پائے جاتے ہیں ۔ واضح رہے کہ 72 کیلو میٹر طویل لائن بچھائی جارہی ہے اس کے لیے 2748 پشتے یا بند میں سے تقریبا تعمیر کئے جاچکے ہیں ۔ امید ہیکہ حیدرآباد میٹرو ریل سے جہاں صارفین کو غیر معمولی سہولتیں حاصل ہو گی وہیں لاکھوں بیروزگار نوجوانوں کو روزگار بھی حاصل ہوگا ۔ ایچ ایم آر کے انجینئروں کے خیال میں مارچ 2015 تک اس پراجکٹ کی تعمیر مکمل ہوجائے گی اور شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد کا شمار دنیا کے چند اہم شہروں میں ہونے لگے گا ۔ ویسے بھی حیدرآباد ہندوستان کی میڈیکل سٹی اور موتیوں کے شہر کی حیثیت سے بھی شہرت رکھتا ہے ۔۔