حیدرآباد رباط میں عازمین حج کے قیام کا مسئلہ تعطل کا شکار

حیدرآباد۔/26 فروری(سیاست نیوز) حج کے دوران مکہ مکرمہ میں رباط نظام حیدرآباد میں سابق ریاست حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے عازمین کے قیام کا مسئلہ ایسا لگتا ہے کہ قونصل خانہ ہند جدہ اور سنٹرل حج کمیٹی کی جانب سے بروقت حل نہیں کیا جاتا ہے تو اس بات کا قوی خدشہ ہے کہ جاریہ سال بھی اس علاقہ سے تعلق رکھنے والے عازمین رباط میں قیام کرنے سے محروم رہ جائیں گے۔ رباط میں قیام کی اجازت کے نتیجہ میں فی عازم تقریباً 28,000 روپے کی بچت ہوگی۔ اگرچہ اس خصوص میں قونصل جنرل ہند متعینہ جدہ جناب فیض احمد قدوائی نے پہل کرتے ہوئے /19 فروری کو ایک مکتوب چیف ایکزیکیٹیو آفیسر حج کمیٹی آف انڈیا کو روانہ کی جس کی نقولات سی ای او آندھرا پردیش حج کمیٹی، جناب قاسم رضا سکریٹری اوقاف کمیٹی آف ایچ ای ایچ دی نظام حیدرآباد اور جناب حسین محمد الشریف ناظر رباط نظام حیدرآباد کو روانہ کی گئی۔

اس مکتوب میں قونصل جنرل نے رباط حیدرآباد میں سابق ریاست حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے عازمین کے قیام کے مسئلہ پر ناظر رباط اور اوقاف کمیٹی کے درمیان جاری تنازعہ کی خوشگوار یکسوئی پر زور دیا۔ انہوں نے اپنے مکتوب میں کہا کہ /29 ستمبر 2013ء کو انہوں نے ایک مکتوب سکریٹری اوقاف کمیٹی آف ایچ ای ایچ دی نظام حیدرآباد کو روانہ کرتے ہوئے مکہ مکرمہ کے حیدرآباد رباط میں عازمین حج کے قیام سے متعلق مسئلہ کی یکسوئی کرلینے کی خواہش کی تھی تاہم ابھی تک اوقاف کمیٹی کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا جس کی وجہ سے سال گذشتہ حج کے دوران حیدرآباد ریاست کے حجاج رباط کی سہولت سے مستفید نہیں ہوسکے۔

اگر یہی تعطل برقرار رہے گا تو حجاج دوبارہ اس سہولت سے محروم رہ جائیں گے جو سابق ریاست حیدرآباد کے حکمرانوں نے فراہم کیا تھا۔ مکتوب میں بتایا گیا کہ دریں اثناء انہیں ناظر کی جانب سے مطلع کیا گیا کہ مئی 2012ء سے انہوں نے آن لائن درخواستوں کی اساس پر عمرہ کے لئے آنے والے عازمین کو قیام کی سہولت فراہم کررہے ہیں۔ مئی 2012ء سے جنوری 2014ء تک ناظر نے تقریباً 13,179 عازمین کو رباط میں مفت قیام کی سہولت فراہم کی۔ معتمرین کے قیام کے معاملہ کو وہ اوقاف کمیٹی سے کسی قسم کے اعتراض کے بغیر نمٹ رہے ہیں۔ ناظر کی جانب سے قیام کے الاٹمنٹ کے لئے اختیار کردہ سسٹم شفاف ہے اور عازمین کی بہتر طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔ قونصل جنرل نے مسئلہ کی عاجلانہ یکسوئی کی خواہش کی تاکہ حج کے درخواست گذاروں کو اس مرتبہ بھی سال گذشتہ کی طرح متاثر نا ہونے پڑے اور کئی حجاج کو رباط میں قیام کی اجازت دی جاتی تو انہیں قیام کے مصارف برداشت کرنا پڑا جس سے وہ بچ سکتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ بروقت مسئلہ کی یکسوئی نہیں کی جاتی ہے تو حیدرآباد رباط 2014ء کے لئے رباط درخواست گذاروں کے قیام کے الاٹمنٹ کے لئے اختیار کئے جانے والے طریقۂ کار کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس خصوص میں ناظر رباط میں سیاست سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ رباط میں عازمین کے قیام کو یقینی بنانے ہندستانی حکام کو درکار کارروائی مارچ کے اختتام تک مکمل کرلینی چاہئے بصورت دیگر رباط میں قیام کیلئے سعودی محکموں سے درکار ضروری اجازت نامے اور تصریح کا حصول مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوجائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اگر انہیں رباط میں قیام کے لئے آن لائن الاٹمنٹ کی اجازت دی جاتی ہے تو وہ جاریہ سال ایک عمارت میں 263 عازمین کے قیام کے علاوہ مزید ایک عمارت کرایہ پر حاصل کرتے ہوئے اضافی عازمین کو قیام کی سہولت فراہم کرنے تیار ہیں۔

اگر انہیں بروقت اجازت نہیں دی جاتی تو وہ دوسری عمارت کرایہ پر لینے سے قاصر رہیں گے۔ یاد رہے کہ حرمین کی حالیہ توسیع میں ایک عمارت ضم ہوگئی ہے اس لئے زائد عازمین کے قیام کو یقینی بنانے پیشگی طور پر دوسری عمارت کرایہ پر حاصل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ کی یکسوئی کے لئے ہندستانی حکام کو فوری مداخلت کرتے ہوئے انہیں رباط میں عازمین کے قیام کی اجازت دینے سے متعلق صداقتنامہ مارچ کے اختتام تک روانہ کردیا جانا چاہئے۔ جناب حسین محمد الشریف نے کہا کہ وہ ہندستانی حکام سے امید رکھتے ہیں کہ وہ مسئلہ کی نزاکت محسوس کرتے ہوئے ناظر رباط کے اصولی موقف کو تسلیم کرلیں گے اور رباط میں قیام کے لئے آن لائن قرعہ اندازی کے ذریعہ منتخب کردہ عازمین کو قیام کی اجازت مرحمت کریں گے۔ یاد رہے کہ ناظر رباط سے تعاون واشتراک کیاجاتا ہے تو وہ دو عمارتوں میں تقریباً 400 عازمین کو قیام کی سہولت فراہم کریں گے جس سے عازمین کی مجموعی طور پر 1.20 کروڑ روپے کی بچت ہوگی۔