حکومت کی کارکردگی میں شفافیت کے دعوے کھوکھلے

ویب سائیٹ پر جی اوز دستیاب نہیں، حکومت عدالت میں مقدمات سے خوفزدہ، عوام حقائق جاننے کے حق سے محروم
حیدرآباد ۔ 21 ۔ جون (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت اپنی کارکردگی میں مکمل شفافیت کا دعویٰ تو کرتی ہے لیکن اس کا عمل دعویٰ کے برخلاف ہے۔ سرکاری احکامات کی عوام تک رسائی کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے اور عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ حکومت کے احکامات پر سوال اٹھائیں۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد سے سرکاری ویب سائیٹ پر احکامات کو پیش کرنے کا سلسلہ روک دیا گیا۔ بعد میں عوامی حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی تنظیموں کے احتجاج اور ہائی کورٹ میں مقدمات کے بعد صرف مخصوص جی اوز کو سرکاری ویب سائیٹ پر پیش کیا جانے لگا۔ گزشتہ تین برسوں میں سرکاری ویب سائیٹ پر پیش کئے جانے والے جی اوز کی تعداد میں بتدریج کمی واقع ہوئی ہے۔ صرف ان جی اوز کو عوام کے ملاحظہ کیلئے پیش کیا جارہا ہے جو غیر اہم ہو۔ ایسے تمام احکامات جن سے کوئی تنازعہ پیدا ہوسکتا ہے، انہیں ویب سائیٹ پر پیش نہیں کیا جاتا۔ 10 اہم سرکاری محکمہ جات کی جانب سے گورنمنٹ آرڈرس (جی اوز) کو سرکاری ویب سائیٹ پر پیش کرنے سے گریز کیا جارہا ہے ۔ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ کے تحت چلنے والے محکمہ بلدی نظم و نسق نے 2015 ء میں 776 جی اوز ویب سائیٹ پر پیش کئے۔ 2016 ء میں یہ تعداد گھٹ کر 508 ہوگئی۔ 2017 ء میں صرف 5 جی اوز ویب سائیٹ پر پیش کئے گئے۔ اسی طرح جنرل اڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ (جی اے ڈی) جو چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے تحت ہے، 2015 ء میں 3920 جی اوز کو ویب سائیٹ پر پوسٹ کیا۔ 2016 ء میں یہ تعداد گھٹ کر 1409 ہوگئی جبکہ 2017 ء میں صرف 599 جی اوز ویب سائیٹ پر اپ لوڈ کئے گئے۔ دیگر محکمہ جات میں ہوم ، ہائیر ایجوکیشن ، اریگیشن ، پنچایت راج اور آر اینڈ بی کی جانب سے یہی صورتحال ہے۔ حکومت کے بعض احکامات کو عدالت میں چیلنج کئے جانے کے بعد سے سرکاری ویب سائیٹ پر اہم جی اوز کی پیشکشی کو روک دیا گیا ہے۔ اسی دوران فورم فار گڈ گورنینس کے سکریٹری ایم پدمانابھ ریڈی جنہوں نے گزشتہ دو برسوں سے اس مسئلہ کا جائزہ لیا تھا ، صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عوامی دلچسپی سے متعلق احکامات کو ویب سائیٹ پر پوسٹ نہیں کیا جارہا ہے ۔ حکومت کے اہم فیصلوں کے متعلق احکامات کی عدم پیشکشی کے نتیجہ میں عوام واقف نہیں ہوپا رہے ہیں۔ آر ٹی آئی ایکٹ کی دفاع 4(1) (C) کے تحت حکومت پر ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی اہم پالیسی کی تیاری کے وقت تمام متعلقہ دستاویزات کو شائع کرے۔ سیکشن 4(1) (D) کے تحت حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنے انتظامی فیصلوں کی وجوہات سے عوام کو واقف کرائے۔ تلنگانہ حکومت سرکاری احکامات کو عام کرنے کے سلسلہ میں جس پالیسی پر عمل پیرا ہے، وہ آر ٹی آئی ایکٹ کے برخلاف ہے۔ اگر حکومت عوامی مفادات کے خلاف کوئی جی او جاری کرتی ہے تو شہریوں کو اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ وہ اسے عدالت میں چیلنج کریں۔ 2016 ء میں کانگریس کے قائد ڈی شراون نے سرکاری ویب سائیٹ پر جی اوز کی عدم پیشکشی کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں درخواست داخل کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کارکردگی میں شفافیت کی کمی ہے ۔ اس بارے میں جب اسمبلی میں سوال کیا گیا تھا تو حکومت نے کہا تھا کانفیڈینشیل جی اوز کو ویب سائیٹ پر پیش نہیں کیا جاتا ۔ شراون نے سوال کیا کہ سرکاری احکامات سے پوری طرح واقفیت کا عوام کو اختیار حاصل ہے۔