انتخابی وعدوں کو فراموش نہیں کیا جائیگا ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کا تیقن
حیدرآباد 12 جون ( این ایس ایس ) چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آج واضح کیا کہ ان کی حکومت تمام انتخابی وعدوں کی تکمیل کے عہد کی پابند ہے اور ان میں کسانوں کیلئے ایک لاکھ روپئے تک کے فصل قرض کی معافی بھی شامل ہے ۔ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں قرض معافی کا اعلان کیا تھا ۔ تلگودیشم فلور لیڈر ای دیاکر راؤ کی جانب سے حکومت کے خلاف اسمبلی میں کئے گئے ریمارکس کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں جو وعدے کئے تھے انہیں فراموش کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ پارٹی نے منشور میں جو کچھ بھی وعدے کئے تھے ان کو حکومت کی جانب سے پورا کیا جائیگا ۔ مسٹر چندر شیکھر راؤ نے ای دیاکر راؤ کے اس الزام کو اہمیت دینے سے انکار کیا کہ حکومت نے بینکرس اجلاس میں کئے گئے فیصلے کو عملا افشا کردیا تھا ۔ یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ کسانوں کے سونے کے عوض حاصل کردہ قرضہ جات اور طویل مدتی قرضہ جات کو معاف نہیں کیا جائیگا ۔ مسٹر راؤ نے یہ ادعا کیا کہ ٹی آر ایس کا اس طرح کا کوئی کلچر نہیں ہے ۔ یہ یاد دہانی کرواتے ہوئے کہ ابھی ان کی حکومت صرف 10 دن پرانی ہے چیف منسٹر نے کہا کہ ابھی تک ان کا دفتر بھی پوری طرح سیٹ نہیں ہوا ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ تلنگنہ ریاست ابھی بھی قائم کی گئی ہے اور مرکزی حکومت نے تلنگانہ ریاست کیلئے صرف 71 ۔آئی اے ایس عہدیداروں کو نامزد کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں انہیں کابینی سکریٹری سے نمائندگی کرنی پڑ تھی ۔ اب چیف سکریٹری کے بشمول ریاست میں صرف 71 آئی اے ایس عہدیدار ہیں۔ اس مسئلہ کی مکمل یکسوئی کیلئے ابھی 10 تا 15 دن درکار ہیں۔ چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ آئندہ خریف سیزن میں کسانوں کے مفادات کو ذہن میں رکھتے ہوئے خود انہوں نے کسانوں کے فصل قرض معاف کرنے کے لئے پہل کی تھی ۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ ڈواکرا گروپس کیلئے قرضہ جات معاف کرنے کا انہوں نے ٹی آر ایس کے انتخابی منشور میں کوئی وعدہ نہیں کیا تھا ۔ پارٹی نے ڈواکرا گروپس کے قرض کو پانچ لاکھ سے دس لاکھ کرنے کا وعدہ کیا تھا اوراس وعدہ کو بھی بہرحال پورا کیا جائیگا ۔ علاوہ ازیں وزیر زراعت مسٹر پوچارم سرینواس ریڈی نے آج آندھرا پردیش چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو پر تنقید کی اور کہا کہ وہ مرکز کی بی جے پی زیر قیادت حکومت کے سامنے فنڈز کیلئے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نائیڈو فنڈز کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کسانوں کے قرض معافی اعلان کے تعلق سے کہا کہ آندھرا میں نائیڈو کی جانب سے عملا کچھ کئے جانے سے قبل ہی تلنگانہ میں کسانوں کے فصل قرض معاف کئے جائیں گے ۔