حکومت پر فرضی انکاونٹر سے سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کا الزام

کل ہند اسٹوڈنٹ فیڈریشن کے صدر جناب سید ولی اللہ کا بیان
حیدرآباد۔24اپریل(سیاست نیوز) آلیر فرضی انکاونٹر کے ذریعہ آرایس ایس کے خفیہ ایجنڈے کو روبعمل لانے کا حکومت تلنگانہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کل ہند اسٹوڈنٹ فیڈریشن کے صدر جناب سید ولی اللہ قادری نے کہاکہ تلنگانہ حکومت نے آلیرفرضی انکاونٹر میںپانچ بے قصور مسلم نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے مرکز میں برسراقتدار اپنے سیاسی آقائوں کی خوشنودی حاصل کرنے کا کام کیا ہے۔ آج یہاں سی پی آئی کے پارٹی ہیڈکوارٹر مخدوم بھون میںمنعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جناب سید ولی اللہ قادری نے کہاکہ آلیرفرضی انکاونٹر کے مہلوکین کو انصاف ملنے تک اے آئی ایس ایف قومی اورریاستی سطح پر حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج منظم کریگی۔انہوں نے انکاونٹر کے ذریعہ تلنگانہ کو پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کرنے کابھی ریاستی سربراہ کے چندرشیکھر رائو پر الزام عائدکیا۔ انہوں نے کہاکہ پولیس کی بربریت پر ریاستی انتظامیہ کی مجرمانہ خاموشی خود اس بات کی دلیل ہے کہ حکومت ریاست میں پولیس کے ذریعہ غنڈہ راج نافذ کرنا چاہتی ہے تاکہ عوام بالخصوص اقلیتوں کے اندر خوف ودھشت کا ماحول پیدا کرسکے۔ انہوں نے کہاکہ جمہوریت میں انکاونٹر جیسے واقعات کی کوئی گنجائش نہیںہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ ہندوستان کا سماجی اورسیاسی پس منظر یکسر تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جو قاتل ہیں وہ اس ملک کے وزیراعظم بن رہے ہیںاور اعلی عہدوں پر انہیں فائز کیا جارہا ہے جبکہ بے قصور اور معصوم لوگوں کو ملزم بناکر یا تو جیلوں میں بند کردیا جارہا ہے یا پھر انکاونٹر کے نام پر انہیںموت کے گھاٹ اتارا جارہا ہے۔ جناب سید ولی اللہ قادری نے آلیر فرضی انکاونٹر کی منصفانہ تحقیقات کا حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کیا۔ انہوں نے قومی سطح پر تعلیمی نصاب میںبھگوا رنگ بھرنے کی کوششوں پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہاکہ ہندوستان کی عوام جن فرقہ پرست شخصیتوں کو مسترد کرچکی ہے انہیں تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیںجس سے ہندوستان کے سکیولر اقدار کو دھکہ پہنچے گا۔ انہو ں نے نصاب میں بھگوت گیتا کو شامل کرنے کی بھی سختی کے ساتھ مخالفت کی اور کہاکہ ہندوستان کا تعلیمی نظام ہی سکیولر ہندوستان کی پہچان بنا ہوا ہے مگر مرکز میں نریندر مودی انتظامیہ کے اقتدار میں آنے کے ساتھ ہی ہندوستان کی سکیولر پہچان کو مسخ کرنے کی کوششیں تیزہوگئی ہیں۔انہوں نے تعلیم کو زعفرانی رنگ دینے کی ہر کوشش کے خلاف قومی سطح پر احتجاج کرنے کا انتباہ دیا۔