حکومت پاکستان اور احتجاجیوں کے درمیان ثالثی کی تردید

واشنگٹن 22 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے کہاکہ وہ حکومت پاکستان اور اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا نہیں کررہا ہے۔ تاہم پاکستان کی صورتحال پر اُس کی گہری نظر ہے جہاں وزیراعظم نواز شریف سے کرپشن اور انتخابی دھاندلیوں کے الزام میں استعفیٰ کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ ماری ہارف نے کہاکہ ہم احتجاجیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ واضح طور پر ہمارا خیال ہے کہ پاکستان میں پرامن اظہار خیال اور اظہار نظریات کی آزادی ہونی چاہئے۔ ہم اِس عمل میں کسی بھی طرح ملوث نہیں ہیں۔ تمام اطلاعات کہ ہم حکومت پاکستان

اور احتجاجیوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کررہے ہیں، بے بنیاد ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ امریکہ نے تمام فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ بحران کی پرامن بات چیت کے ذریعہ یکسوئی کرلیں اور اُنھیں تشدد سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ پاکستان عوامی تحریک کے قائد طاہر القادری نے خود اپنے ملک کو سیاسی بحران میں مبتلا کردیا ہے۔ نواز شریف حکومت کے خلاف احتجاج کی صدر تحریک انصاف عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے قائد طاہر القادری کررہے ہیں۔ حکومت اور احتجاجی اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان بات چیت کل کسی نتیجہ پر پہونچے بغیر ختم ہوگئی جس کی وجہ سے سیاسی بحران میں مزید شدت پیدا ہوگئی۔ طاہر القادری نے سرکاری مذاکرات کی ٹیم سے ملاقات سے انکار کردیا۔ عمران خان نے بھی مذاکرات سے دستبرداری اختیار کرلی اور اعلان کیاکہ وہ تادم آخر احتجاج جاری رکھیں گے۔