رہائی عام عدالتی عمل کا حصہ، سرکاری مدد کی تردید
سرینگر۔ 8 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر کے ایک سخت گیر علیحدگی پسند لیڈر مسرت عالم نے جنہیں چار سال چھ ماہ تک حراست میں رکھنے کے بعد گزشتہ روز رہا کیا گیا تھا، آج کہا کہ ان کی رہائی عدالتی و قانونی عمل کا حصہ ہے اور رہائی کیلئے پی ڈی پی۔ بی جے پی حکومت نے ان کی کوئی مدد نہیں کی ہے۔ مسرت عالم نے پی ٹی آئی سے کہا کہ ’’مجھے حکومت سے کوئی تائید یا مدد حاصل نہیں ہوئی ہے، میری رہائی عام عدالتی عمل کا ایک حصہ ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اکثر قانون عوامی تحفظ (پی ایس ) کے تحت گرفتار کیا جاتا رہا ہے‘‘۔ حتی کہ متعلقہ عدالتوں نے میری ضمانت منظور کی تھی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی تبدیلی سے بنیادی حقیقت بدل نہیں جاتی ۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں حکومت کی تبدیلی کا یہ مطلب نہیں کہ یہاں کی حقیقت بدل گئی ہے بلکہ ریاست کے عوام ہی یہ تبدیلی لاسکتے ہیں ۔ انہوں نے جیل سے رہائی کے سلسلے میں ان کے اور ریاستی حکومت کے مابین خفیہ معاملت کی تردید کی ۔ انہوں نے کہا کہ رہائی سے مرکز
اور علحدگی پسندوں کے مابین مذاکرات کی راہ ہموار ہونے کا دعویٰ بھی غلط ہے ۔ مسلم لیگ لیڈر نے اپنی رہائی پر پیدا شدہ تنازعہ کے بارے میں کہا کہ ’’میری رہائی پر کوئی چیخ و پکار ہوتی ہے تو یہ ان (چیخ پکار کرنے والوں) کا درد سر ہے‘‘۔ اس سوال پر کہ آیا ان کی رہائی حکومت اور علیحدگی پسندوں کے مابین مذاکرات کے احیاء کا اشارہ ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس مسئلہ پر صرف حریت کانفرنس فیصلہ کریگی۔ ’’ہم (مسلم لیگ) اس فورم (حریت کانفرنس) کا حصہ ہیں اور مذاکرات پر فورم جو بھی فیصلہ کرے گا، میں اس کی پابندی کروں۔ علیحدگی پسند لیڈر مسرت عالم کو اکتوبر 2010ء کے دوران ایجی ٹیشن کے اختتام کے موقع پر گرفتار کیا گیا تھا۔ مسرت عالم نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا کہ رہائی کے لئے ریاستی حکومت اور ان کے مابین خفیہ معاملت ہوئی ہے اور یہ (رہائی) دراصل مرکز اور علیحدگی پسندوں کے مابین مذاکرات کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔ مسرت عالم نے سوال کیا کہ ’’میری رہائی میں کیا بڑی معاملت ہوسکتی ہے۔ گزشتہ 20 سال سے میں جیل کے اندر اور باہر جاتا اور آتا رہا ہوں اور اب میری رہائی میں آخر کونسی نئی بات ہے‘‘۔