حکومت تلنگانہ کا پہلا بجٹ پیش ، کوئی نیا ٹیکس نہیں

٭ سالانہ تخمینہ 1,15,689 کروڑ روپئے مصارف
٭ مالیاتی خسارہ کا تخمینہ 16,969 کروڑ روپئے
٭ اسمبلی میں وزیر فینانس ایٹالہ راجندر کا خطاب، شہدائے تلنگانہ کو خراج

٭ حیدرآباد کو عالمی درجہ کا شہر بنانے 2000 کروڑ روپئے مختص
٭ روزانہ اضافی 260ملین گیلن سربراہی آب یقینی
٭ ماہ مئی سے شہر میں کوئی برقی کٹوتی نہیں ہوگی

حیدرآباد۔/11مارچ، ( سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے سال 2015-2016 کیلئے جملہ 1,15,689 کروڑ روپئے مصارف پر مشتمل بجٹ اسمبلی میں پیش کیا۔ جس میں غیر منصوبہ جاتی مصارف کا تخمینہ بجٹ 63,306کروڑ روپئے اور منصوبہ جاتی مصارف کا تخمینہ بجٹ 52,383 کروڑ روپئے شامل ہیں جبکہ تخمینی اضافی مالیہ 531کروڑ روپئے اور مالیاتی خسارہ کا تخمنہ 16,969 کروڑ روپئے ہے۔ آج جیسے ہی ٹھیک 10بجے صبح ایوان کی کارروائی کا آغاز ہوا ، اسپیکر تلنگانہ قانون ساز اسمبلی مسٹر مدھو سدن چاری نے بجٹ کی پیشکشی کا اعلان کیا اور وزیر فینانس حکومت تلنگانہ مسٹر ای راجندر سے ریاست تلنگانہ کا سال 2015-2016 کیلئے بجٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔

وزیر فینانس نے اپنے پیش کردہ بجٹ میں بتایا کہ ریاست تلنگانہ کو اقلیتی طبقات کی فلاح و بہبود کیلئے جملہ 1105کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ مسٹر ای راجندر وزیر فینانس نے تقریباً ایک گھنٹہ میں (36) صفحات پر مشتمل بجٹ تقریر مکمل کی اور بتایا کہ جی ایس ڈی پی کے فیصد کی حیثیت سے تخمینی مالیاتی خسارہ 3.49فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2014-15 کے بالمقابل غیر منصوبہ مصارف میں اضافہ کا سبب سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور بھتہ جات میں اضافہ ہے۔ حکومت کے سال 2015-16 میں منصوبہ مصارف میں اضافہ کیلئے شدید دباؤ کا سامنا ہے جس کا بنیادی سبب14ویں فینانس کمیشن کے متوقع محاصل اختصاص میں کمی اور مرکز سے منصوبہ جاتی رقم میں تخفیف ہے۔ اس طرح سال 2015-16 میں متوقع محاصل اختصاص کا تخمینہ 12.823 کروڑ روپئے ہے۔

علاوہ ازیں مرکزی حکومت نے ریاستوں کیلئے منصوبہ جاتی گرانٹس میں غیر معمولی حد تک کمی کرتے ہوئے سال2014-2015 میں (تخمینی موازنہ ) 3,14,814 کروڑ روپئے کے بالمقابل سال 2015-16 میں ( تخمینی موانہ ) 1,80,293 کروڑ روپئے کردیا ہے جس کے نتیجہ میں سال 2015-2016 کے تخمینہ موازنہ میں ریاستوں کو مرکز سے ملنے والے منصوبہ جاتی گرانٹس 6,497.29کروڑ روپئے ہے جبکہ سال 2014-15 کے تخمینہ موازنہ میں یہ رقم 11,781کروڑ روپئے تھی۔ لہذا مرکزی حکومت کی جانب سے فنڈس کی کمی کی وجہ سے ہماری حکومت نے ( تلنگانہ حکومت نے ) منصوبہ مصارف میں کمی کی ہے۔ حیدرآباد کو عالمی درجہ کا شہر بنانے کیلئے 2000 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں ان میں بلدیہ اور حیدرآباد میٹرو ریل کیلئے بھی رقومات شامل ہیں۔ حکومت نے شہر حیدرآباد کو جاریہ سال کے اختتام تک اضافی 210ملین گیالن پانی کی سربراہی کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح ماہ مئی سے شہر میں کوئی برقی کٹوتی نہیں ہوگی۔ حسین ساگر تالاب کی صفائی کے ذریعہ خوبصورت بنایا جائے گا۔ حیدرآباد میں اسکائی لین ڈیولپمنٹ کیلئے 1600کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔

حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ کی جولائی 2017 تک تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا۔وزیر فینانس مسٹر ای راجندر نے اپنی بجٹ تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرے لئے بڑا اہم اور عظیم لمحہ ہے کہ میں ( ای راجندر ) اس نئی ریاست تلنگانہ کے پہلے مکمل سال کا موازنہ ( بجٹ ) برائے سال 2015-16 پیش کررہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس بجٹ کی پیشکشی کو میں بڑا فخر سمجھتا ہوں کہ پہلا مکمل سالانہ موازنہ ( مکمل سالانہ بجٹ ) پیش کرنے کا مجھے اعزاز حاصل ہوا ہے۔ اس سلسلہ میں تلنگانہ کے عوام بالخصوص چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور معزز ارکان ایوان کا دل کی گہرائیوں سے اظہار تشکر کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سال گزشتہ جب دس ماہ کا بجٹ پیش کیا گیا جو کہ بہت ہی مشکل امر تھا اس لئے کہ سال 2014-15 کے بجٹ کی تیاری میں کئی اُمور جیسے مالیاتی گنجائش اور مرکزی امداد نامعلوم تھیں لیکن میں ان مشکلات پر چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی مکمل رہنمائی اور ہدایات کے ذریعہ ہی قابو پاسکا۔ (سلسلہ صفحہ 6 پر)

وزیر موصوف نے مزید کہا کہ بجٹ صرف اعداد کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ ہمارے اقدار اور خواہشات کا مجموعہ ہے۔ اس طرح یہی اصول سال 2015-16 کے بجٹ کی تیاری میں اپناتے ہوئے مکمل اور انتہائی شفاف بجٹ پیش کیا جارہا ہے۔ بجٹ کی پیشکشی کے دوران وزیر فینانس مسٹر ای راجندر نے تلنگانہ ریاست کے حصول کیلئے اپنی عظیم قربانیاں دینے والوں کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا۔ وزیر فینانس نے کہا کہ حکومت تلنگانہ ہر ایک پیسہ تلنگانہ عوام کی ہمہ جہتی ترقی کیلئے ہی نہ صرف مختص کررہی ہے بلکہ خرچ کرے گی اور یہ بجٹ بالکلیہ طور پر تلنگانہ عوام کی خواہشات کے مطابق ہوگا۔ مسٹر راجندر نے کہا کہ حکومت نے اپنے بجٹ میں عوامی فلاح و بہبود، زرعی شعبہ اور روزگار کی فراہمی پر اولین ترجیح دی ہے اور عوام کو بہتر طبی سہولتوں کی فراہمی پر بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ وزیر فینانس نے ایوان کو بتایا کہ سال 2018 تک ریاست میں فاضل بجٹ حاصل رہے گا۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے متعلق کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ مرکزی حکومت نے سال 2015-16 میں جی ڈی پی کے 3.9 فیصد کا مالی خسارہ پیش کیا ہے اور ریاستوں سے جی ایس ڈی پی (GSDP) کے 3فیصد کی حد پر قائم رہنے کی خواہش کی گئی ہے۔ فینانس کمیشن نے اگرچیکہ بعض شرائط کی تکمیل پر جی ایس ڈی پی کی اضافی قرض حد 0.5 فیصد کرنے کی سفارش کی ہے لیکن اس سفارش پر مرکزی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ وزیر فینانس نے پرزور الفاظ میں کہا کہ جیسا کہ کہاوت ہے کہ ’ ہزاروں میل کا سفر پہلے قدم سے شروع ہوتا ہے، سنہرے تلنگانہ کے مقصد کے حصول کی سمت ہمارا سفر صرف ایک قدم کے ساتھ نہیں بلکہ بے شمار بڑے بڑے قدموں کے ساتھ شروع ہوا ہے اور جب تک یہ مقصد حاصل نہ ہوجائے تب تک یہ قدم پیچھے ہٹانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ خواہ اس کے لئے کسی بھی نوعیت کی رکاوٹیں حائل ہوں اور مخالفین ( اپوزیشن جماعتیں ) چاہے کتنا ہی واویلا کریں موجودہ تلنگانہ حکومت اپنے قول و عزم مصمم کے ساتھ آگے بڑھتی رہے گی۔ مسٹر ای راجندر نے کہا کہ ہم نے پہلے ہی نو ماہ کی قلیل مدت میں اپنے اس عزم کا مظاہرہ کردکھایا ہے کہ ہم تلنگانہ کے عوام کی خدمت کیلئے کمربستہ ہیں۔ وزیر فینانس نے اس سالانہ موازنہ ( بجٹ ) کو ایوان میں منظوری کیلئے پیش کرنے کا اظہار کیا۔ وزیر فینانس کی بجٹ تقریر ختم ہونے کے ساتھ ہی کرسی صدارت پر فائز اسپیکر تلنگانہ قانون ساز اسمبلی مسٹر مدھو سدن چاری نے ایوان کی کارروائی کو بروز جمعہ تک کیلئے ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل میں ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر کے سری ہری نے سالانہ بجٹ پیش کیا۔