حکومت ایک ہفتہ میں جواب دے : ہائیکورٹ

حیدرآباد /16 اپریل (سیاست نیوز) حیدرآباد ہائیکورٹ نے آج حکومت تلنگانہ کو ہدایت دی کہ وقار احمد کے والد کی داخل کردہ درخواست پر اندرون ایک ہفتہ جوابی حلفنامہ داخل کرے ۔ وقار کے والد محمد احمد نے ایک درخواست دائر کرتے ہوئے استدعا کی کہ ان کے فرزند اور اس کے چار ساتھیوں کی پولیس تحویل میں ہلاکت کے سلسلہ میں فوجداری مقدمہ درج کیا جائے ۔ وقار احمد اور اس کے چار ساتھیوں کو 7 اپریل کو آلیر کے قریب فرضی انکاونٹر میں ہلاک کردیا گیا تھا جب وہ ورنگل کی جیل سے حیدرآباد لائے جا رہے تھے ۔ وکیل صفائی کی بحث کی سماعت کے بعد ہائیکورٹ نے اڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سے سوال کیا کہ آیا پولیس نے وقار کے والد محمد احمد کی شکایت پر مقدمہ کیوں درج نہیں کیا گیا ؟ ۔ جسٹس ولاس وی افضل پورکر کے اجلاس پر سماعت جاری ہے ۔ وقار کے والد نے رٹ درخواست میں اپنے فرزند اور اس کے چار ساتھیوں کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کرانے کی بھی درخواست کی تھی جس پر ایڈوکیٹ جنرل نے اعتراض کیا تھا لیکن عدالت نے اس پر اعتراض کی وجہ طلب کی ۔ رٹ درخواست میں یہ بتایا گیا تھا کہ /7 اپریل کو آلیر کے ضلع نلگنڈہ میں ورنگل ریزرو پولیس اسکارٹ پارٹی نے مبینہ فرضی انکاؤنٹر میں وقار احمد اور اس کے چار ساتھیوں کو ہلاک کرنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے وقار آباد کے والد محمد احمد ، ڈاکٹر حنیف کی اہلیہ عشرت بانو اور سید امجد علی کے بھائی امتیاز علی نے ہائیکورٹ میں رٹ درخواست میں واضح طور پر بتایا تھا کہ اسکارٹ پارٹی کے خلاف آلیر پولیس میں شکایت کے باوجود پولیس کارروائی سے قاصر رہی ہے اور مہلوکین کے پوسٹ مارٹم پر شبہ ظاہر کرکے دوبارہ پوسٹ مارٹم کرانے اور سی بی آئی سے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا ۔