حیدرآباد۔/8جولائی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر محمد علی شبیر نے تلنگانہ حکومت پر اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر عمل آوری میں عدم سنجیدگی کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے چیف منسٹر کی جانب سے کلکٹرس اور محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیداروں کے اجلاس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کے سی آر نے تمام دیگر مسائل کے بارے میں عہدیداروں کو ہدایات جاری کیں لیکن اقلیتوں اور دیگر کمزور طبقات کی بھلائی کے اُمور پر توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر آئندہ پانچ برسوں میں فلاحی اسکیمات پر ایک لاکھ کروڑ روپئے خرچ کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں لیکن انہیں چاہیئے تھا کہ کلکٹرس اور عہدیداروں کے اجلاس میں اس سلسلہ میں ہدایات جاری کرتے ہوئے اپنی سنجیدگی کا اظہار کرتے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر نے اقلیتی بہبود کیلئے بجٹ میں ایک ہزار کروڑ روپئے مختص کرنے کا وعدہ کیا لیکن برسراقتدار آنے کے بعد سے ابھی تک اقلیتی بہبود کا بجٹ جاری نہیں کیا گیا جوکہ ریاست کی تقسیم کے وقت روک دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے اقلیتی بہبود کا قلمدان اپنے پاس رکھا تو ہے لیکن اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر عمل آوری کے سلسلہ میں ایک بھی جائزہ اجلاس طلب نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی بہبود کا قلمدان ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کو تفویض کرتے ہوئے چیف منسٹر کو اقلیتی اسکیمات پر موثر عمل آوری کو یقینی بنانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاملہ میں اقلیتی بہبود کے عہدیدار چیف منسٹر تک رسائی حاصل نہیں کرسکتے لہذا اس سے محکمہ کی کارکردگی متاثر ہوگی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ چندر شیکھر راؤ صرف زبانی وعدوں کے ذریعہ اقلیتوں کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث اقلیتی بہبود کی کئی اسکیمات پر عمل آوری متاثر ہوئی ہے لیکن محکمہ کا کوئی پرسان حال نہیں۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کے انتظامات کے سلسلہ میں حکومت نے 5کروڑ کی اجرائی کا اعلان کیا تھا لیکن رمضان کا پہلا دہا گذرنے کے باوجود ابھی تک مکمل رقم جاری نہیں کی گئی۔ یہ رقم مساجد کی تعمیر و مرمت اور آہک پاشی کے سلسلہ میں مختص کی جارہی تھی، اب جبکہ رمضان المبارک کا پہلا دہا مکمل ہوچکا ہے لہذا تعمیر و مرمت کے کاموں کی تکمیل کب ہوگی۔انہوں نے کہا کہ فیس بازادائیگی اسکیم اور تحفظات پر عمل آوری کے سلسلہ میں حکومت نے ابھی تک اپنا موقف واضح نہیں کیا ہے جس کے باعث اقلیتی طلبہ میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ٹی آر ایس حکومت نے اقلیتوں کو 12فیصد تحفظات کی فراہمی کا اعلان کیا لیکن اسمبلی میں کئے گئے وعدہ کے مطابق ابھی تک چیف منسٹر نے کُل جماعتی اجلاس طلب نہیں کیا اور نہ ہی ریٹائرڈ جج پر مشتمل کمیشن قائم کیا گیا۔