حکمرانی میں شفافیت اور احتساب کو بہتر بنانے کی ضرورت

بنگلور 8 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر اعظم کی جن دھن یوجنا اور بیرونی فوائد منتقلی اسکیم کو مبنی بر قدر حکمرانی کی کوشش قرار دیتے ہوئے صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے آج شفافیت ‘ احتساب اور تنظیمی صلاحیتوں میں بہتری کی ضرورت پر زور دیا تاکہ معیاری خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے ۔ یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے کہا کہ عوامی ادارہ جات کی بہتری اور ان کے موثر ہونے کا انحصار خدمات کی فراہمی کے میکانزم پر ہے اور قوانین کے ادارہ جاتی دائرہ کار و ریگولیشنس بھی اہمیت رکھتے ہیں ۔ ان سب کو بدلتے ہوئے وقتوں کے مطابق ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال ضرورت اس بات کی ہے کہ خدمات کی فراہمی کی ضروریات کی تکمیل کیلئے جہاں ایک طرف جہاں تنظیمی صلاحیتوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے وہیں دوسری جانب ہمیں شفافیت اور احتساب ( جوابدہی ) کو بھی بہتر بنانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے ٹکنالوجی پر مبنی تخلیقی حل کی اہمیت بھی آشکار ہوتی ہے ۔ صدر جمہوریہ کرناٹک موبائیل ون ( ایک موبائیل گورننس پراجیکٹ ) کا افتتاح کرنے کے بعد اظہار خیال کر رہے تھے جسے ریاستی حکومت نے شروع کیا ہے ۔ کوئی بھی فرد اس پراجیکٹ کے ذریعہ حکومت سے شہریوں تک اور کاروبار سے شہریوں تک جیسی خدمات جیسے پاسپورٹ موقف اور انکم ٹیکس ادائیگی و باز ادائیگی جیسی خدمات کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتا ہے ۔ یہ سہولت اسمارٹ فونس پر دستیاب ہوگی جس کیلئے ایک منفرد اپلیکیشن تیار کیا گیا ہے ۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ جنوری 2013 میں فوائد کی راست منتقلی کی جو اسکیم شروع کی گئی تھی اس کے نتیجہ میں معاملت کے خرش کو کم کیا گیا ہے ‘ بہتر شفافیت لائی گئی ہے ‘ زیاں کو روکا گیا ہے اور مخصوص گروپ تک پہونچنے میں مدد ملی ہے اور سرکاری پروگرامس کو موثر بنایا جاسکے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس پہل سے ظاہر ہوتا ہے کہ مناسب ٹکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے کس طرح سے بہتر حکمرانی کی کوششوں کو مستحکم کیا جاسکتا ہے ۔ پرنب مکرجی نے کہا کہ ای گورننس ‘ حکمرانی کے معیارات کو بہتر بنانے میں کافی مدد کرسکتی ہے ۔ وقت کی اہم ضرورت یہ ہے کہ انفارمیشن ٹکنلوجی کے شعبہ میں ہندوستان کے قائدانہ موقف کو استعمال کرتے ہوئے ٹکنالوجی پر مبنی حل برائے حکمرانی پیش کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں حکومت نے مزید کئی ایسے اقدام کئے ہیں جن کے نتیجہ میںاجتماعی ترقی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے جن میں وزیر اعظم جن دھن یوجنا بھی شامل ہے ۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر ‘ صفائی مہم اور ماڈل ولیجس کے قیام کی کوششیں بھی شامل ہیں۔