حملہ آوروں نے طلبا ء کے سروں کو نشانہ بنایا

اسلام آباد ۔ 17ڈسمبر۔( سیاست ڈاٹ کام ) پشاور کے آرمی اسکول میں جن طلباء کو طالبان نے اپنا نشانہ بنایا اُن کی بربریت اور درندگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے بیشتر طلباء کو انتہائی قریب سے اُن کے سروں پر گولی چلائی ہے جسے حالیہ عرصہ میں بچوں پر کئے جانے والے حملوں میں سنگین ترین حملہ تصور کیا جارہا ہے ۔ آرمی پبلک اسکول کے 132 طلباء اور اسٹاف کے نو ارکان کے قتل عام کی ساری دُنیا میں مذمت کی جارہی ہے ۔ طالبان نے نیم فوجی دستوں کے یونیفارم زیب تن کر رکھے تھے اور وارسک روڈ پر واقع اسکول میں داخل ہوکر اندھادھند فائرنگ شروع کردی تھی ۔ انگریزی اخبار ڈان نے بعض زندہ بچ جانے والے طلباء کے حوالے سے بتایا کہ حملہ آور متصلہ قبرستان سے اسکول کی دیوار پھاند کر اندر داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے کلاس رومس اور آڈیٹوریم کی جانب بڑھنے لگے ۔حملہ میں محفوظ رہنے والے طلبہ فائرنگ سے بچنے کیلئے بینچوں کے نیچے جا چھپے تھے ۔ خیبرپختونخواہ کے وزیراطلاعات مشتاق احمد غنی نے کہاکہ طلباء کی اکثریت سر پر گولی لگنے سے جاں بحق ہوئی ۔ اولیائے طلباء جو عام طورپر اسکول کے اختتام پر اپنے بچوں کو لینے آتے ہیں اور عمارت کے باہر کھڑے رہتے ہیں ، کل وہ ہاسپٹل کے باہر زاروقطار روتے ہوئے کھڑے تھے ۔