غزہ ، 21 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے عسکری شعبہ نے اسرائیلی فوج کی غزہ پٹی پر دوبارہ جارحیت کے آغاز کے بعد غیر ملکی فضائی کمپنیوں کو تل ابیب کے بن گورین ہوائی اڈے پر پروازوں پر کی آمدورفت پر انتباہ کیا ہے جبکہ صیہونی فوج کے حملوں میں نو فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔ حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ کے ترجمان نے اس انتباہ سے قبل ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فوج اس تنظیم کے کمانڈر محمد ضیف کو ایک حملے میں نشانہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ ترجمان نے کہا ، ’’کمانڈر محمد ضیف المعروف ابو خالد غزہ میں اپنے گھر پر صیہونی حملے میں بال بال بچ گئے ہیں لیکن اس میں ان کا سات ماہ کا بیٹا اور اہلیہ شہید ہو گئے ‘‘
۔ ترجمان نے مزید کہا کہ صیہونی دشمن کے قائدین اپنے دفاتر میں ٹی وی اسکرینوں کے سامنے بیٹھ کر بڑی خبر کے منتظر تھے۔ ان کے سراغرساں اداروں نے بھی انھیں یہ یقین دلا دیا تھا کہ خوشی کا بڑا لمحہ آنے والا ہے لیکن وہ اس بڑی خبر کو پانے میں ناکام رہے ہیں۔ حماس کے ملٹری کمانڈر کی اہلیہ اور کم سن بچے کی نماز جنازہ میں ہزاروں فلسطینیوں نے شرکت کی ۔ دریں اثناء اسرائیلی وزیر داخلہ جدعون ساعر نے غزہ میں حماس کے کمانڈر پر فضائی حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا، ’’ضیف ہی اس کا ہدف تھے۔ وہ اسامہ بن لادن کی طرح موت کے حق دار ہیں۔ اگر ہمیں پھر موقع ملا تو ہم انھیں نشانہ بنانے کی کوشش کریں گے‘‘۔ قبل ازیں غزہ پٹی کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فوج کے حملوں میں سات فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ ایمرجنسی سرویسز کے ترجمان اشرف القدرہ نے بتایا ہے کہ غزہ شہر کے شمال میں صیہونی فوج کی بمباری میں ایک ادھیڑعمر شخص شہید ہو گیا ہے۔ ادھر غزہ پٹی کے قصبہ دیرالبلاح میں اسرائیلی طیاروں کی بمباری میں ایک حاملہ خاتون سمیت ایک ہی خاندان کے چھ افراد شہید ہوئے ہیں۔ ان میں 32 سالہ خاتون رفعت علوح کے تین کم سن بچے،ایک بھائی اور ایک رشتہ دار خاتون شامل ہیں۔