بل کی منظوری کے وقت صدر ٹی آر ایس کی خاموشی ، محمد علی شبیر کا شدید ردعمل
حیدرآباد ۔ 11 ۔ اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ حقیقی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے مرکز سے ٹکراؤ کا ڈرامہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کو زائد اختیارات کے مسئلہ پر ٹی آر ایس حکومت نے اچانک مرکز کے خلاف احتجاج کا آغاز کردیا ۔ حالانکہ آندھراپردیش تنظیم جدید بل کی منظوری کے بعد سے ہی حیدرآباد نے گورنر کو زائد اختیارات کی گنجائش رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چندر شیکھر راؤ نے بل کی منظوری کے وقت نہ اس سلسلہ میں کوئی احتجاج کیا اور نہ بل میں ترمیم پیش کی۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ ریاست کی تقسیم سے متعلق بل کی پیشکشی کے دوران ٹی آر ایس کے سربراہ نے مباحث میں بھی حصہ نہیں لیا تھا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ اب جبکہ ٹی آر ایس حکومت عوام سے کئے گئے وعدوں پر عمل آوری میں ناکام ہوچکی ہے، لہذا عوام میں بڑھتی ناراضگی کو روکنے کیلئے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے اور گورنر کو اختیارات کا مسئلہ حکومت کو ایک ہتھیار کے طور پر مل چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے حکمرانی کے دو ماہ مکمل کرلئے لیکن ابھی تک عوام سے کیا گیا ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ کسانوں کے قرضہ جاتی کی معافی کے سلسلہ میں ابھی تک کوئی پیشرف نہیں کی گئی ۔ اس کے علاوہ غریبوں کو مکانات کی فراہمی اسکیم کو برف دان کی نذر کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو اسکالرشپ اور فیس ری ایمبرسمنٹ کے مسئلہ پر ٹی آر ایس حکومت نے تاحال اپنے موقف کی وضاحت نہیں کی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ عوامی وعدوں کی تکمیل میں ناکامی سے بچنے کیلئے چندر شیکھر راؤ غیر اہم مسائل پر اپنی ساری توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کو اختیارات کے مسئلہ پر ٹی آر ایس حکومت مرکز سے مشاورت کرسکتی ہے یا پھر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جاسکتا ہے ۔ برخلاف اس کے کہ عوامی مسائل کی یکسوئی کو نظر انداز کرتے ہوئے چندر شیکھر راؤ اس مسئلہ کو لیکر احتجاج کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں ن ے چیف منسٹر کو مشورہ دیا کہ وہ عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل پر توجہ دیں۔