سید علی طاہر ؔعابدی
واقعات تاریخ کے صفحات میں گم ہوجا تے ہیں ۔ کارنامے بھلادیئے جا تے ہیں افراد فنا ہو جا تے ہیں ۔ فنون کا ستارہ ڈوبجا تا ہے۔ تہذیبیں بنتی ہیں اور مٹ جا تی ہیں ۔ قومیں پہچانی جا تی ہیں ‘ اور بھلا دی جا تی ہیں۔ ایک بہائو ہے‘ ایک روہے ۔ ایک سیلاب ہے جس کا لا متناہی سلسلہ ہر لمحہ اورہر آ ن تاریخ کو نئی شکل وصو رت دیتا ہوا بڑا ھتا جا تا ہے ۔ لیکن دنیا نے یہ بھی دیکھا ہے کہ ایسی شخصیتیں بھی گزریں جنہوں نے وقت کو اپنی گرفت میں لیا جن کے عمل کے سامنے سب کچھ ٹھہر گیا ، جنکے لمحوں نے صدیوں کو سمیٹ لیا ۔ جن کی انگلی کے اشارے نے چاندکے ٹکڑے کئے جن کے خیال نے آفتا ب کو پلٹا یا ۔ جنہوں نے وقت کی دھارے کو موڑدیا ۔ وقت نے افراد کو متعارف کر ایا تھا لیکن یہ وہ افراد تھے جن سے وقت پہچانا گیا ۔ دن رات پہچا نے گئے ۔ کون اس سے انکار کر سکتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کی بے مثال قربانی نے دس ذی الحجہ کے دن کو یادگار بنا دیا ۔ ماہ رمضان کو کوئی کیسے فراموش کر سکتا ہے کہ اُس ماہ مبارک میں خدا کے ایک بر گزید ہ بندے کی شہادت کا دن ہے ۔وہ بندہ جو مولود کعبہ تھا۔ دن اوررات پہچانے گئے۔ ایسے ہی افراد کی وجہ سے ، جنھوں نے آنی و فانی زند گی کو حیات جاوید میںتبدیل کر دیا ۔ میدان جہاد میں‘اپنی جان کے نذرانے پیش کر کے اپنے نام تاریخ کے صفحات میں محفوظ کر گئے ۔ ان کے تذکرے زندہ ‘ ان کے کارنامے باقی‘ ان کا نام روشن حیات جاوید ان کا مقدر ہے ۔یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے شاذ تمکنت نے کہا ؎
کچھ لوگ تھے جو دشت کو آباد کرگئے
اک ھم ہیں جن کے ہاتھ سے صحر انکل گیا
یہی سبب ہے کہ قرآن میں رب العزت نے سب قسمیں کھائی ہیں ۔زما نے کی بھی قسم کھا ئی اور رات اور دن کی بھی قسم کھائی اور یہ قسم اس وجہ سے کھا ئی کہ کچھ مقدس اوربر گزیدہ شخصیتوں نے اپنے کارناموں سے کسی د ن کو حیات کا عنوان اورکسی رات کومہر درخشاں بنا دیا ۔دنیا کی تاریخ ایسے چندافرا د کو پیش کر سکتی ہیں اور روز و شب صرف چند افراد کو اپنے لئے سرما یہ ناز اور اور باعث افتخار بنا سکتے ہیں اور اگر غور کیجئے تو یہ صاف معلوم ہو تا ہے کہ صرف وہی دین یاد گار بنااور وہی صبح قیا مت تک پھیل سکی جس دن اور جس صبح کو کسی مروحق آگاہ نے اپنی قربانی سے اللہ کی رضاحاصل کی تو پھر تاریخ کی سب سے بڑی قربانی کا دن اور سب سے بڑی قربانی کی رات کو پہچا ننے کے لئے وہ شہا دت عظمیٰ یاد آتی ہے جس میں انسا نی عظمت و جلا ل ایسی منزل تک آگئی تھی کہ دھند لا تی ہوئی چاندنی اور تپتا ہوا سورج دونوں انسان کے وقار کے سامنے شرمندہ تھے۔یہ وہ شہا دت ہے جس پر خود شہادت ناز کر تی ہے ۔ یہ وہ شہید تھے جنھو ں نے ساری انسا نیت کی نجات ہمیشہ باقی رہنے والے اصول واقداراورنظر یہ حیات کی حفاظت کے لئے اور سب سے بڑھکراللہ کی واحدنیت محمد ؐ مصطفیٰ ؐ کی رسالت اور پیغام الٰہی کی حفاظت کے لئے دین کی حقانیت کے اثبات کے لئے جام شہادت نوش کیا تھا ۔یہ وہ شہیدتھے جن کے لئے قرآن مجید میں ارشاد ہے ’’انھیںمردہ نہ سمجھویہ اپنے پر وردگار سے اپنا رزق حاصل کر تے ہیں۔یہ حیات جاوید پا چکے ہیں‘‘۔
کل ! کل شب عاشورہ تھی ۔بے اختیار یا د آتا ہے کہ تاریخ میںدن کا ذکرملتاہے لیکن کوئی ایسی رات نہیں ملتی جو انسا نی کا رناموں کی وجہہ سے پہچا نی گئی ہو ۔ ایسی رات بن گئی ہوجس کے تقدس کے سامنے فرشتوں کی عبادت بھی کم نظر آنے لگے ۔ جس رات میں شہادت کی بشارت پوشیدہ ہو ‘وہ رات جوانسا نیت کے سر کار وشن وتابناک تاج ہو۔ وہ رات جواس اعتبار سے شب قدرکے مقابل آسکتی ہے کہ شب قدرکو قرآن نازل ہو اتھا اور اس رات کو قرآن ناطق نے عملی طور پر اللہ کے پیغام کی تفسیر بیان کر دی تھی ۔اسی رات نے دنیا کو یہ سمجھا دیا تھا کہ شہادت وہ بھی ہو تی ہے جب ایک لمحہ میں جسم و جان کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے ۔لیکن شہادت عظمیٰ وہ ہے جب ہر لمحہ تسبیح کے دانوں کی طرح مسلسل ہو کر رضائے الٰہی کی خاطر شہادت سے ہم کنا ر ہو تا ہے
تاریخ کی اس منفر د رات کو بلند ہو نیوالی آوازیں آج بھی فضا میں گونج رہی ہیں ۔ آج بھی یہ یاد آتا ہے کہ حسین ؑ نے چراغوں کو بجھاکر اپنے انصار و اصحاب سے یہ فرما یا تھا کہ جس کا دل جہاں چاہیے چلا جائے بیعت اُٹھالی گئی اور اصحاب وانصارنے وفا کی اور ایمان کی اور رفاقت کی اورصداقت کی وہ مشغلیں ، اپنے جواب سے روشن کیں جس کی نظر تاریخ میںنہیں ملتی ۔یاد آتا ہے کہ حسین ؑ کی عظیم شہادت کی گواہی یاشب عاشور چاند اور ستاروں نے دی تھی یا آفتاب اپنے چہرے پرخون لئے ہوئے منہ چھپا کہ روپوش ہو گیاتھا ۔ رات نے بھی شہادت کی معرفت کی گواہی دی تھی اور پھر روز عاشور کا آفتاب حسین علیہ السلام کی صداقت کا گواہ بن کر نکلا اورپھر کسی شہید کی یاد کا بے مثا ل اور ابد ی گواہ بن کر آج بھی جب نکلتا ہے تو چہرے پر خون ملے ہوئے نکلتا ہے او رڈوبتا ہے تو خون برسا تا ہوا ڈوب جاتا ہے ۔ روز و شب کایہ سلسلہ اس بات کا اعلان کر رہا ہے کہ شہادت عظمیٰ اورواقعات کر بلا‘ حدود وقت سے ماور اہیں کوئی بھی دور ہو کوئی بھی تہذیب جنم لے ۔ جب تک اسلا م زندہ ہے ‘ جب تک خدا کا پیغام باقی ہے شجر و حجر روز و شب جن دانس کر بلا کے شہیدوں کی یاد منا تے رہیں گے ؎
’’دنیا یہ نہ ہو گی مگر اسلام رہے گا ‘‘
’’شبیر ؑ بہر حال تیرا نام رہے گا ‘‘