حصول اراضی آرڈیننس سے فوری دستبرداری کا مطالبہ

حیدرآباد ڈسٹرکٹ کلکٹوریٹ پر احتجاج ، سی پی آئی کے قائدین کی گرفتاری
حیدرآباد۔14مئی(سیاست نیوز) کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے معلنہ جیل بھرو پروگرام کے تحت سی پی آئی سنٹرل زون قائدین اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے آج حیدرآباد کلکٹریٹ کا گھیرائو کرتے ہوئے مرکز کے حصول اراضی بل کی شدت کے ساتھ مخالفت اور اپنی گرفتاریاں پیش کیں۔ سینئر کمیونسٹ قائد وسابقہ رکن پارلیمنٹ راجیہ سبھا جناب سیدعزیز پاشاہ کی قیادت میں سینکڑوں کمیونسٹ قائدین اور کارکنوں نے حیدرآباد کلکٹر دفتر میں جبراً داخل ہونے کی کوشش کی ۔بعدازاں پولیس نے جناب سیدعزیز پاشاہ کے بشمول تمام کمیونسٹ قائدین اور کارکنوں کی گرفتاری عمل میں لاتے ہوئے انہیں عابڈس پولیس اسٹیشن منتقل کردیا۔ قبل ازیں میڈیا سے بات کرتے ہوئے جناب سید عزیزپاشاہ نے مرکز کے حصول اراضی بل کو نہ صرف کسانوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے والا قانون قراردیا بلکہ معاشی طور پرپسماندگی کاشکار تمام طبقات کی پریشانیو ں میںاضافہ بھی کہا ہے۔جناب سیدعزیز پاشاہ نے 1894کے برٹش دور حکومت میںحصول اراضی بل پہلی بار متعارف کروایاگیا تھا جس میں برٹش حکمران متعلقہ کسانوں کو بغیر اطلاع ہی اراضی حکومت کے حوالے کرنے کا قانون نافذ کرنے کاکام کیا تھا جس کی شدت کے ساتھ مخالفت کی گئی ۔2013میں یوپی اے حکومت نے حصول اراضی بل میں ترمیم لاتے ہوئے مذکورہ بل کو دوبارہ پیش کیا جس کی بی جے پی نے شدت کے ساتھ مخالفت کی جبکہ نریندر مودی انتظامیہ کے اقتدار میں آنے کے بعد پھر ایک مرتبہ حصول اراضی بل کو پارلیمنٹ میںپیش کیاگیا جو انگریز دور حکمرانی کی یاد دلاتا ہے۔جناب سیدعزیز پاشاہ نے بل میںترمیم کے نام پر عوام بالخصوص کسانوں کو دھوکہ دینے کا بی جے پی پر الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہاکہ نریندر مود ی انتظامیہ دوفصلی ‘ زرعی اور غیر زراعی تمام اراضیات کو کسان اور مالک اراضی کی مرضی کے بغیر ہڑپنے کاکام کررہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مرکز کے اس قانون سے کسانوں اور معاشی طور پر پسماندہ طبقات کو کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑیگا۔ انہوں نے حصول اراضی بل کو واپس لینے تک مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج کا انتباہ دیا۔ سی پی آئی گریٹر حیدرآباد سنٹرل زون کنونیرڈاکٹر سدھاکر‘ سلیم خان‘ محمد غوث‘ رام سنگھ کے بشمول سینکڑوں سی پی آئی مرد وخواتین کارکنوں نے عزیز پاشاہ کے ساتھ اپنی گرفتاری پیش کی۔