مورتیوں کے وسرجن کیلئے متبادل مقام کی تجویز، کُل جماعتی اجلاس میں غور و خوض
حیدرآباد 9 ڈسمبر (سیاست نیوز) حیدرآباد سے متعلق بعض اُمور پر تبادلہ خیال کے لئے آج کل جماعتی اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے کی۔ اُنھوں نے حسین ساگر جھیل کو صاف کرنے کی حکومت کی تجویز سے واقف کرایا جو انتہائی آلودہ ہوچکی ہے۔ اُنھوں نے تہوار کے موقع پر مورتیوں کے نمرجن کے لئے علیحدہ جھیل تیار کرنے حکومت کی تجویز سے بھی واقف کرایا۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین نے حسین ساگر جھیل کو صاف کرنے میں مدد کا تیقن دیا۔ چیف منسٹر نے کہاکہ حکومت اراضیات پر قبضے روکنے کے لئے سخت اقدامات کی خواہاں ہے۔ حیدرآباد میں جن اراضیات پر قبضے کئے گئے ہیں اُن کے بارے میں حکومت تمام تفصیلات منظر عام پر لائے گی۔ اُنھوں نے تمام پارٹیوں سے خواہش کی کہ 16 ڈسمبر کو منعقد شدنی کُل جماعتی اجلاس میں اپنی رائے پیش کریں۔ کے چندرشیکھر راؤ نے میٹرو ریل پراجکٹ میں بعض تبدیلیوں سے متعلق تجاویز کا بھی ذکر کیا اور تمام جماعتوں سے آئندہ اجلاس میں اُن کی رائے جاننے کی خواہش ظاہر کی۔ اجلاس میں ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی، وزیرداخلہ این نرسمہا ریڈی، وزیر فینانس ای راجندر کے علاوہ کانگریس پارٹی کے نمائندہ کے آر سریش ریڈی، تلگودیشم پارٹی کے ایل رمنا، مجلس کے اکبرالدین اویسی، بی جے پی کے کشن ریڈی، سی پی آئی ایم کے ایس راجیا اور سی پی ایم کے رویندر کمار کے علاوہ دیگر نے شرکت کی۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ حکومت حسین ساگر کے اطراف بلند عمارتیں تعمیر کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ مختلف نالوں کا پانی حسین ساگر کی آلودگی میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔ اس کے علاوہ گنیش مورتیوں اور دیگر تہواروں کے موقع پر بھی مورتیوں کے وسرجن کی وجہ سے آلودگی بڑھ رہی ہے۔ اُنھوں نے حیدرآباد کو سنگاپور کی طرز پر ترقی دینے بعض قائدین کے تذکرہ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ شہر حیدرآباد کی دنیا بھر میں منفرد شناخت ہے۔ لہذا اس کا کسی دوسرے شہر سے تقابل نہیں کیا جانا چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ حیدرآباد کو حیدرآباد ہی رکھا جائے گا اور حکومت اِسے ترقی دے گی۔ چیف منسٹر نے کہاکہ کئی مقامات پر غریب لوگ اپنی بھوک مٹانے کے لئے دیہی علاقوں سے شہر کے سلم بستیوں میں مقیم ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت اِن غریب عوام سے ہمدردی رکھتی ہے اور وہ چاہتی ہے کہ جھونپڑیوں کو ہٹاکر وہاں ہمہ منزلہ عمارتیں تعمیر کی جائیں اور تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔ حکومت کی اِس تجویز کا تمام جماعتوں کے قائدین نے خیرمقدم کیا۔ غریب افراد جہاں مقیم ہیں وہیں اُنھیں 80 تا 125 گز اراضی کے پٹے جات مفت فراہم کرتے ہوئے اراضیات کو باقاعدہ بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔