میونسپل فیس سے معافی کی درخواست پر کارروائی ندارد، کامپلکس ڈھانچہ میں تبدیل
حیدرآباد۔/14فبروری، ( سیاست نیوز) حج ہاوز سے متصل اراضی پر زیر تعمیر کامپلکس کو قانونی شکل دینے کیلئے وقف بورڈ کی جانب سے شروع کردہ مساعی پر تلنگانہ حکومت نے گزشتہ چار ماہ سے کوئی فیصلہ نہیں کیا جس کے باعث اس کامپلکس کو لیز پر دینے کا مسئلہ زیر التواء ہے۔ 4ماہ قبل وقف بورڈ نے حکومت سے درخواست کی تھی کہ زیر تعمیر گارڈن ویو کامپلکس کی بلدی فیس معاف کی جائے جوکہ تقریباً 4کروڑ 60لاکھ روپئے ہے۔ اس رقم کی ادائیگی کیلئے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی جانب سے وقف بورڈ کو نوٹس روانہ کی گئی۔ میونسپل فیس سے استثنیٰ کی صورت میں وقف بورڈ کامپلکس کی تکمیل میں پیشرفت کرسکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ میونسپل فیس کی معافی سے متعلق فائیل چیف منسٹر کے سکریٹری کے پاس زیر التواء ہے لیکن ابھی تک اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ تلنگانہ حکومت نے میونسپل فیس معاف کرنے کا تیقن دیا تھا۔ حکومت کی جانب سے فائیل کی عدم یکسوئی کے سبب ہمہ منزلہ کامپلکس ایک ڈھانچہ میں تبدیل ہوچکا ہے جس کی تکمیل کے فوری طور پر کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ اسپیشل آفیسر کی حیثیت سے آئی پی ایس عہدیدار ایس اے ھدیٰ کے دور میں حج ہاوز سے متصل ایک لاکھ مربع فیٹ سے زائد اراضی کو 20کروڑ روپئے میں حاصل کیا گیا تھا تاکہ اس پر عالیشان کامپلکس تعمیر ہو جس سے وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی تقریباً 90 درگاہوں اور اوقافی اداروں سے رقم حاصل کرتے ہوئے 20کروڑ روپئے ادا کئے گئے۔ بعد میں کامپلکس کی تعمیر کا آغاز ہوا اور ابھی تک 10کروڑ 7لاکھ روپئے خرچ کئے جاچکے ہیں جس میں زیادہ تر حصہ درگاہ حضرت اسحاق مدنیؒ کی آمدنی سے متعلق ہے۔2سیلر، گراؤنڈ فلور اور 7فلور تعمیر کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا لیکن مجلس بلدیہ کی جانب سے نوٹس کے بعد تعمیری کام روکنا پڑا۔ تعمیری کام کیلئے بلدیہ کی جانب سے اجازت کے عدم حصول کے باعث موجودہ ڈھانچہ غیرقانونی عمارتوں کی فہرست میں شامل ہے۔ جس شخص سے یہ اراضی خریدی گئی تھی بتایا جاتا ہے کہ اس نے اجازت کے حصول کیلئے 2006ء میں مجلس بلدیہ کو ایک کروڑ روپئے ادا کئے تھے تاہم ابھی تک ایک کروڑ چالان سمیت یہ رقم بڑھ کر 4کروڑ60لاکھ ہوچکی ہے۔ وقف بورڈ اس موقف میں نہیں کہ اس قدر بھاری رقم مجلس بلدیہ کو ادا کرسکے۔ اسپیشل آفیسر وقف بورڈ نے اس سلسلہ میں حکومت سے نمائندگی کی اور ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمود علی نے بلدی فیس معاف کرنے کا تیقن دیا تھا جس پر متعلقہ فائیل چیف منسٹر کے دفتر روانہ کی گئی جو چار ماہ سے زیر التواء ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ بلدی نظم و نسق اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے عہدیدار اس قدر بھاری فیس کو معاف کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب انڈومنٹ کی عمارتوں کی تعمیر کیلئے فیس وصول کی جاتی ہے تو پھر وقف بورڈ کو معافی کیوں۔ فبروری2009ء میں اس وقت کے چیف منسٹر راج شیکھر ریڈی نے سنگ بنیاد رکھا تھا اور ڈسمبر 2012ء میں تعمیری کام کا آغاز ہوا۔ وقف بورڈ کی تجویز ہے کہ اسے نئے ایکٹ میں دی گئی سہولت کے مطابق 30سال کیلئے کسی نامور ادارہ کو لیز پر دیا جائے جو مابقی تعمیری کام کی تکمیل کرتے ہوئے وقف بورڈ کو کرایہ ادا کرے۔ اس ایک کامپلکس سے وقف بورڈ کو لاکھوں روپئے آمدنی کی توقع ہے۔ حکومت وقف بورڈ کو میونسپل فیس معاف کرتے ہوئے اس عالیشان کامپلکس کی تکمیل میں اہم رول