درگاہ حضرت جہانگیر پیراںؒ کے غلہ اور اشیاء کے ہراج کے لیے ٹنڈرس کے ادخال کو روکنے کی کوشش
حیدرآباد۔/16ڈسمبر، ( سیاست نیوز) حج ہاوز نامپلی میں واقع وقف بورڈ کے دفتر میں آج اس وقت احتجاج اور ہنگامہ آرائی ہوئی جب درگاہ حضرت جہانگیر پیراں ؒ کے غلہ اور دیگر اشیاء کے ہراج کے سلسلہ میں ٹنڈرس طلب کئے گئے تھے۔ مقامی رکن اسمبلی اور سیاسی قائدین کی قیادت میں بڑی تعداد میں مقامی افراد عین وقت پر وقف بورڈ کے دفتر پہنچے اور احتجاج کرتے ہوئے کسی بھی ٹنڈر گذار کو ٹنڈر داخل کرنے سے روک دیا۔ سرکاری کام کاج میں مداخلت کرتے ہوئے وقف بورڈ کے عہدیداروں سے احتجاجی اُلجھ پڑے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ وقف بورڈ کے عہدیداروں نے احتجاجیوں سے نمٹنے کیلئے بارہا پولیس عابڈز سے خواہش کی لیکن پولیس ان کی مدد کیلئے نہیں پہونچی جس کے نتیجہ میں ٹنڈرس کے ادخال کا وقت گذرنے تک بھی احتجاج جاری رہا اور کسی شخص نے بھی ٹنڈر داخل نہیں کیا۔ اسپیشل آفیسر وقف بورڈ جلال الدین اکبر اطلاع ملتے ہی فوری وقف بورڈ پہنچے اور احتجاجیوں سے بات چیت کی۔ بعد میں سرکاری کام کاج میں رکاوٹ اور ہنگامہ آرائی کرنے پر پولیس عابڈز میں شکایت درج کرائی گئی۔ احتجاجیوں کے واپس جانے کے بعد پولیس کی ایک ٹیم وقف بورڈ پہنچی تاہم اس وقت تک صورتحال قابو میں آچکی تھی۔ جناب جلال الدین اکبر نے پولیس کے عدم تعاون کی اعلیٰ عہدیداروں سے شکایت کی۔بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے درگاہ حضرت جہانگیر پیراں ؒ کے مجاوروں اور کنٹراکٹرس میں تنازعہ چل رہا ہے۔ مجاوروں کا دعویٰ ہے کہ درگاہ شریف کو نذر کی جانے والی بعض اشیاء پر ان کا حق ہے جبکہ وقف بورڈ نے غلہ کے ساتھ دیگر اشیاء کو بھی ہراج میں شامل کردیا۔ اس فیصلہ کے خلاف مجاور عدالت سے رجوع ہوئے تاہم عدالت نے وقف بورڈ کے حق میں فیصلہ سنایا۔ گزشتہ چھ ماہ سے وقف بورڈ اپنی راست نگرانی میں درگاہ کے انتظامات کررہا ہے۔ غلہ اور دیگر اُمور کی نگرانی راست وقف بورڈ کے تحت انجام دی جارہی ہے۔ ٹنڈرس کی طلبی کے سلسلہ میں کئی رکاوٹوں کے بعد وقف بورڈ نے آج ٹنڈرس طلب کئے تھے۔ دوپہر 2بجے تک ٹنڈرس کے ادخال کا وقت تھا لیکن مجاوروں اور ان کے حامیوں نے منصوبہ بند انداز میں پہنچ کر ہنگامہ آرائی کی اور کسی بھی کنٹراکٹر کو ٹنڈر داخل کرنے سے روک دیا۔ ہر سال ہراج میں تقریباً 5تا10ٹنڈرس داخل کئے جاتے ہیں۔ اسپیشل آفیسر نے بتایا کہ وقف بورڈ آئندہ کسی تاریخ میں دوبارہ ٹنڈرس طلب کرے گا اور اس طرح کی مداخلت کو روکنے کیلئے پولیس کے موثر انتظامات کئے جائیں گے۔