ڈھاکہ۔ 27 نومبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) حج پر تنقید کرنے والے بنگلہ دیش کے سابق وزیر اور سینئر سیاست دان عبدالطیف صدیق کو امریکہ سے وطن واپسی پر ڈھاکہ میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ 77 سالہ عبدالطیف کی ضمانت کی درخواست مسترد کر کے انھیں توہین مذہب کے الزام میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ صدیق اتوار کو ایک طویل عرصے بعد بیرون ملک سے واپس ڈھاکہ پہنچے تھے۔ صدیق کی گرفتاری کا مطالبہ اس وقت کیا گیا تھا جب انھوں نے ستمبر میں نیویارک میں ایک جگہ تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ’’حج کے بالکل خلاف ہیں‘‘۔ ان کے اس بیان کے بعد بنگلہ دیش عوامی لیگ نے ان سے مواصلات کی وزارت واپس لے لی اور مذہبی جماعتوں نے ان کے خلاف مظاہرے کئے تھے۔ ٹیلی ویژن کی فوٹیج میں دکھایا گیا کہ صدیق امریکہ میں رہائش پذیر بنگلہ دیشیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ’’وہ حج کے خلاف ہیں۔ 20 لاکھ افراد حج کرنے سعودی عرب کو جاتے ہیں جو افرادی قوت کا ضیاع ہے۔ حج پر جانے والے افراد ملکی معیشت سے پیسہ نکال کر بیرون ملک خرچ کرتے ہیں‘‘۔ عبدالطیف صدیق کی اس تقریر کے بعد اسلامی تنظیم حفاظت اسلام نے سابق وزیر کو ’مرتد‘ قرار دے دیا۔ اُن کے خلاف زائد از 20 مقدمات درج کئے گئے ۔