حافظ سعید کی درخواست اقوام متحدہ میں مسترد ہونے کے بعد سفیر پاکستان ملیہہ لودھی کا مکتوب
نئی دہلی 17 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کی جانب سے جماعۃ الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید کی ان کا نام عالمی ادارہ کی فہرست میں سے حذف کردینے کے خلاف درخواست مسترد کردیئے جانے کے بعد پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ جاریہ ماہ کے اوائل میں عالمی ادارہ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے زور دیا گیا ہے کہ ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے جو اِس بات کا پتہ چلائے کہ ہندوستانی خبررساں ادارہ پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو حافظ سعید کے بارے میں معلومات کس ذریعہ سے حاصل ہوئیں۔ گزشتہ ہفتہ اقوام متحدہ کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے پاکستان کے سفیر برائے اقوام متحدہ ملیہہ لودھی نے زور دیا ہے کہ ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کی جائے جس کے ارکان ہندوستان کے معلومات کے ذرائع کے بارے میں تحقیقات کریں۔ اقوام متحدہ نے حافظ سعید کی درخواست، ان کا نام عالمی دہشت گردوں کی فہرست سے حذف کردینے کی گزارش کی تھی جسے عالمی ادارہ نے جاریہ ماہ کے اوائل میں مسترد کردیا تھا۔ ایک سرکاری ذریعہ کے بموجب حالانکہ غلطی سے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے ایک عہدیدار کو ادارہ کا مالک ظاہر کیا گیا تھا۔ سابق صحافی ملیہہ لودھی نے خبررساں ادارہ کے خبروں کے اقتباسات پیش کرتے ہوئے 7 مارچ کو عالمی ادارہ کو مکتوب روانہ کیا تھا۔
پی ٹی آئی نے اقوام متحدہ کی جانب سے حافظ سعید کی درخواست مسترد کردیئے جانے کی اطلاع دی تھی اور اُنھیں 2008 ء میں ممبئی دہشت گرد حملے کا کلیدی سازشی قرار دیا تھا جو 2008 ء میں اُس نے ممنوعہ دہشت گردوں کی خدمات حاصل کی تھیں۔ اقوام متحدہ کا فیصلہ ہندوستان کی جانب سے تفصیلات اور شہادتیں بشمول خفیہ معلومات جماعۃ الدعوہ کے قائد کی سرگرمیوں کے بارے میں فراہم کرنے کے بعد کیا گیا تھا جبکہ اقوام متحدہ نے حافظ سعید کو پاکستان کی مسلسل تائید کے بعد بھی یہ فیصلہ کیا۔ اُنھیں عالمی دہشت گرد قرار دینے کی تجویز فرانس، برطانیہ، امریکہ اور روس کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔ پاکستان میں قائم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی کوشش کی۔ چین مسلسل مخالفت کرتا آرہا ہے۔ پی ٹی آئی نے جو خبر دی تھی، اُس کی صداقت نہیں جانچی گئی تھی۔ جس کو پاکستان نے چیلنج کرتے ہوئے کہاکہ خبررساں ادارہ کو اُس ذریعہ کا انکشاف کرنا ہوگا جس کے ذریعہ سے حافظ سعید کے بارے میں پی ٹی آئی کو معلومات حاصل ہوئی تھیں۔ ذرائع کے بموجب ملیحہ لودھی کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز کو کسی کی بھی تائید حاصل نہیں ہوسکی۔