جناب زاہدعلی خاں صدارت کریں گے، معزز شخصیتوں اور شعراء کی شرکت
حیدرآباد 15 جون (سیاست نیوز) جس طرح انسان کی مسکراہٹ اس کی روح کا دروازہ کھول دیتی ہے اسی طرح مشاعروں کا انعقاد بھی اُردو زبان کو ترقی کی سمت لے جانے اور زبان کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ سخت ناموافق حالات کے باوجود اُردو صرف اپنے بل بوتے پر آج بھی زندہ اور جاندار ہے تو وہ اُردو کے متوالوں شائقین ادب زبان کی آبیاری کرنے والوں کا بھی ایک اہم حصہ ہے۔ حیدرآباد کے معروف این آر آئی جن کی شخصیت تعارف کی محتاج نہیں ہے مسٹر عبداللہ بن علی بن محفوظ جن کو ادب میں شاعر کی حیثیت سے، تجارت میں منفرد تاجر کی حیثیت حاصل ہے جن کا اُردو زبان سے اٹوٹ رشتہ اس بات کی شہادت ہے کہ اُنھوں نے اپنی گوناں گوں مصروفیات کے باوجود شہر کی معزز شخصیتوں جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر سیاست، جناب ابراہیم بن عبداللہ مسقطی سابق ایم ایل سی و سابق صدرنشین اُردو اکیڈیمی آندھراپردیش کے علاوہ علامہ اعجاز فرخ جیسی شخصیت کی سرپرستی میں جناب محفوظ نے حیدرآباد دکن کے شعراء کی حوصلہ افزائی کے سلسلہ میں انجمن شعراء حیدرآباد دکن کا قیام عمل میں لاتے ہوئے گزشتہ سال سے مشاعرے منعقد کررہے ہیں۔ اس بار وہ 21 جون کو گاندھی بھون حیدرآباد میں ایک کل ہند مشاعرہ منعقد کرنے کی تیاری میں بزم کے عہدیداروں کے ہمراہ مصروف ہیں۔ اس بزم کو بزرگ قائد جناب ابراہیم بن عبداللہ مسقطی کی بھی مکمل سرپرستی حاصل ہے جبکہ مشاعرہ کی صدارت جناب زاہد علی خاں مدیر سیاست کریں گے۔ مہمانان خصوصی کی حیثیت سے الحاج محمد سلیم ایم ایل سی، محمد سعادات احمد انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن (SA) چیرمین انڈیا، مسٹر محمد توفیق حیدرآباد مشہور فلم ایک تھا سردار کے ہیرو کے علاوہ بزم کے عہدیدار وزراء سے ربط میں ہیں۔ قطعی اعلان ایک دو دن میں کردیا جائے گا۔ تاہم شعراء کی بھی فہرست کا عنقریب اعلان کیا جائے گا۔ ملک کے مختلف حصوں سے نامور شعراء کرام سے ربط جاری ہے۔ آج شام تک بزم ان ناموں کو قطعیت دے گی۔ ابراہیم بن عبداللہ مسقطی، علامہ اعجاز فرخ، محفوظ صاحب کی راست نگرانی میں مسٹر علی بن صالح لحمدی مشاعرہ کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔