نئی دہلی ۔ 5 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) دہلی ہائیکورٹ نے آج سابق چیف منسٹر ہریانہ اوم پرکاش چوٹالہ اور ان کے فرزند اجئے چوٹالہ کے علاوہ دیگر 3 افراد کی ٹیچرس کے تقررات کے اسکام کے مقدمہ میں کرپشن کیلئے 10 سال سزائے قید کے فیصلہ کی توثیق کردی۔ جسٹس سدھارتھ مردول نے شیرسنگھ بادشامی اور دو آئی اے ایس عہدیداروں ودیادھر اور سنجیو کمار کی سزائے قید کے فیصلہ کی بھی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اساتذہ کے تقررات کے طریقہ کار کو ’’کرپشن‘‘ کے ذریعہ بدنام اور مسخ کیا ہے۔ جج نے یہ بھی کہا کہ مجرموں نے دیگر سرکاری ملازمین اخلاقی معیاروں کو بھی چیلنج کیا ہے اور دوسروں پر بھی دباؤ ڈالا ہیکہ وہ اپنی خواہشات کے مطابق عمل کریں۔ ہائیکورٹ نے باقی 50 مجرموں کی سزائے قید میں ترمیم کرتے ہوئے اسے دو سال کردیا۔ ضمانت پر رہائی کی تمام درخواستوں کی یکسوئی کردی گئی جو ہائیکورٹ کے اجلاس پر زیرالتواء تھیں اور انہیں خودسپردگی کی ہدایت دی۔ ہائیکورٹ نے کہا کہ جو لوگ پہلے ہی دو سال کی سزائے قید بھگت چکے ہیں ، انہیں رہا کردیا جائے۔ 78 سالہ چوٹالہ نے 7 فبروری کو ہائیکورٹ میں اپنی سزاء اور مجرم قرار دیئے جانے کے فیصلہ کو چیلج کیا تھا اور سزائے قید کو معطل رکھنے کی درخواست کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مختلف بیماریوں کا شکار اور بیمار ہیں۔