نئی دہلی ۔ 20 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) دہلی ہائیکورٹ نے آج اپنے ایک حکمنامہ میں جو جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اتھاریٹی کی اپیل پر سنایا گیا ہے، جو مخالف ملک نعرہ بازی پر طلبہ قائد کنہیا کمار کے 2016ء کے واقعہ سے متعلق تھا۔ عدالت نے جرمانہ کو غیرقانونی، نامعقول اور کمزور قرار دیا۔ عدالت نے مقدمہ سماعت کیلئے دوبارہ عدالت مرافعہ کو واپس کردیا اور ہدایت دی کہ اس کی ازسرنو سماعت کی جائے جو قانون کے مطابق ہو۔ عدالت نے 16 اگست کو جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے ایک اور طالب علم عمر خالد کی درخواست کی سماعت بھی مقرر کی ہے جسے یونیورسٹی سے رسٹیکیٹ کردیا گیا اور اس پر 20 ہزار روپئے جرمانہ قوم دشمن نعرہ بازی کے الزام میں عائد کیا گیا ہے۔
سکھ دشمن فسادات ـزیادہ ہولناک
مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کا بیان
نئی دہلی ۔ 20 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) اپوزیشن کی بی جے پی زیرقیادت حکومت پر ہجومی تشدد میں عوام کی ہلاکتوں کے واقعات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے کہاکہ دہلی کے سکھ دشمن فسادات ہجومی تشدد کی بنسبت زیاد ہولناک تھے۔