جی سی سی قائدین کے اجلاس کا آج امریکہ میں آغاز

واشنگٹن 12 مئی (سیاست ڈاٹ کام ) سعودی فرمانروا شاہ سلمان کے اس فیصلہ کے صرف ایک روز بعد جہاں انہوں نے کہا تھا کہ جاریہ ہفتہ امریکہ میں خلیج فارس قائدین کے امریکی اجلاس میں سعودی عرب شرکت نہیں کرے گا ‘صدر امریکہ نے شاہ سلمان سے ٹیلیفون پر بات چیت کی ۔ دوسری طرف ایفے خبر رساں ایجنسی کے مطابق وائیٹ ہاوس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ شاہ سلمان نے صدر امریکہ بارک اوباما کو فون کیا اور امریکہ نہ آنے کیلئے معذرت خواہی کرلی ۔ لہذا دونوں قائدین نے اجلاس کے ایجنڈہ پر ایک بار پھر بات چیت کی اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ مشرق وسطی کو درپیش خطرات سے موثر اندازسے اجتماعی طور پر نمٹنا چاہئے۔ دونوں قائدین نے اس بات پر بھی باہمی رضا مندی کا اظہار کیا کہ عالمی سطح پر طاقتور P5+1گروپ کے ساتھ ایران معاہدہ کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔

یاد رہے کہ امریکہ ‘ڑوس‘چین ‘برطانیہ ‘فرانس + جرمنی کے ساتھ ایران کا معاہدہ کچھ اس نوعیت کا ہونا چاہئے کہ ایران اپنا یہ پروگرام پر امن رکھے ۔ جہاںتک یمن کی صورت حال کا تعلق ہے جہاں سعودی عرب نے شیعہ حوثیوں کے خلاف فضائی حملے کئے تھے تاہم ان اُن فضائی حملوں کا سلسلہ روک دیا گیا جس پر صدر اوباما نے شاہ سلمان کو مبارکباد دی تھی اور سعودی عرب نے بھی انسانی بنیادوں پر در پیش مسائل کی فوری یکسوئی کیلئے آمادگی کا اظہار کیا ۔ ایک ٹیلیفونک پریس کانفرنس میں امریکی انتظامیہ سعودی وفد کا خیر مقدم کرنا چاہتا ہے ۔ اوباما کے نائب قومی سلامتی مشیر بین رہوڈس نے یہ بات بتائی ۔ سعودی عرب حکومت نے اتوار کے روز یہ اعلان کیا تھا کہ خلیج فارس کانفرنس کیلئے ولیعہد پرنس محمد نائف بن عبدالعزیز کو امریکہ روانہ کیا جائے گا جن کے پاس ملک کے وزیر داخلہ کا قلمدان بھی ہے ۔ اُن کے علاوہ سعودی عرب کے وزیر دفاع محمد بن سلمان بھی ولیعہد کے ہمراہ ہوں گے ۔ شاہ سلمان نے اوباما کے ساتھ ٹیلیفون پر ہوئی بات چیت کے ذریعہ ولیعہد اور وزیر دفاع کے کانفرنس میں شرکت کی توثیق کی ۔

یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ مختلف سیاسی تجزیہ نگاروں کا یہ خیال ہے کہ ایران کے ساتھ امریکہ کی نیو کلیئر مذاکرات نے سعودی عرب کو بے چین کردیاہے اور شائد شاہ سلمان کا امریکہ نہ جانا اوباما کے تئیں اپنی ناراضگی کا اظہار بھی ہوسکتا ہے تاہم وائیٹ ہاوس ان تجزیوں کو مسترد کردیا ہے۔ یاد رہے کہ چہارشنبہ اور جمعرات کو منعقد شدنی اس کانفرنس میں چھ ممالک یعنی کویت ‘قطر‘عمان ‘بحرین ‘سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو مدعو کیاگیا ہے تاہم اب تک اول الذکر دو ممالک کے ہی دو اعلی سطحی قائدین کی جانب سے نمائندگی کرنے کی توثیق ہوئی ہے ۔ اس کانفرنس کا آغاز مندرجہ بالا جی سی سی ممالک کی شرکت اور وائیٹ ہاوس میں ترتیب دیئے گئے عشائیہ سے ہوگا ۔ قبل ازیں پروگرام کے مطابق اوباما اور شاہ سلمان کے درمیان دو رخی بات چیت بھی شامل تھی تاہم شاہ سلمان نے لمحہ آخر میں اپنا دورہ امریکہ منسوخ کردیا ۔ جمعرات کو اوباما اور جی سی سی قائدین کیمپ ڈیوڈ جائیں گے جہاں دہشت گردی کے علاوہ عراق‘ شام ‘یمن اور لیبیا میں جاری لڑائی اور اس میں ایران کا رول اور ساتھ ہی ساتھ ایران کے ساتھ نیو کلیئر معاہدہ ایسے موضوعات ہیں جن پر تبادلہ خیال کیا جائے گا ۔