حیدرآباد ۔ 26 ۔ نومبر : ( نمائندہ خصوصی ) : ملک میں عام انتخابات کے بعد جہاں فرقہ پرستی فرقہ پرستوں کی سرگرمیوں اور ان کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے وہیں مہنگائی بھی بڑھ گئی ہے ۔ حالیہ عرصہ کے دوران اچھائیاں کم اور برائیاں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں ۔ یہ ایسی برائیاں اور پریشانیاں ہیں جن سے عام آدمی کا جینا دوبھر ہوگیا ہے ۔ عام آدمی کو درپیش خطرات میں ایک خطرہ ملک میں آوارہ کتوں کی تعداد میں اضافہ بھی ہے ۔ شہر حیدرآباد میں بھی آوارہ کتوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہواہے ۔ اور ان پر قابو پانے کی سنجیدہ کوششیں نہیں کی جارہی ہیں ۔ آئے روز کہیں نہ کہیں کتوں کے کاٹنے کے واقعات پیش آرہے ہیں ۔ نئے اور پرانا شہر کے اکثر محلوں میں مکینوں کی شکایت ہے کہ آوارہ کتوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے خاص طور پر رات کے اوقات میں لوگوں کا چلنا پھرنا محال ہوجاتا ہے ۔ اس لیے کہ گلیوں اور چوراہوں پر ٹولیوں کی شکل میں بیٹھے کتے اس قدر بھیانک انداز میں بھونکتے ہیں کہ آس پاس کے لوگ نیند سے بیدار ہوجاتے ہیں دوسری طرف راہ گیروں پر ہبیت طاری ہوجاتی ہے ۔ حالیہ عرصہ کے دوران کتے کاٹنے اور کتوں کے باعث پیش آئے حادثات میں کئی افراد فوت ہوئے ہیں ۔ جاریہ ماہ ایک 56 سالہ خاتون کتے کو بچانے کی کوشش میں گاڑی سے گر کر ہلاک ہوگئی اسی طرح گذشتہ ماہ ایک 5 سالہ لڑکا کوکٹ پلی میں اپنے گھر کے قریب کتے کے کاٹ لینے کے 7 دن بعد فوت ہوگیا ۔ مہدی پٹنم ، ملے پلی ، لنگر حوض ، سنتوش نگر ، مادنا پیٹ ، کشن باغ ، بہادر پورہ ، حسن نگر ، جھرہ ، ٹپہ چبوترہ ، ماریڈ پلی ( ایسٹ اور ویسٹ ) دبیر پورہ ، دلسکھ نگر ، سرور نگر میں آوارہ کتوں کی بہتات ہے ۔ ان علاقوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ کتوں کے بھوکنے سے ان کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں
جب کہ چھوٹے بچوں کو باہر بھیجنا خطرہ سے خالی نہیں ہے ۔ ماہرین کے مطابق شہر اور مضافاتی علاقوں میں یا پھر دوسرے شہروں میں کتے کاٹنے کے متاثرین کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان میں کم از کم 85 فیصد بچے ہوتے ہیں جب کہ کتوں کو بچانے کی کوشش میں کئی گاڑیاں الٹ جاتی ہیں ۔ نتیجہ میں قیمتی انسانی جانوں کا اتلاف ہوتا ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جی ایچ ایم سی حدود میں کتوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے لیکن آوارہ کتوں کی حقیقی تعداد کے بارے میں کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگاکہ سال 2008 میں مجلس بلدیہ حیدرآباد میں 12 بلدیات کو ضم کرتے ہوئے اسے جی ایچ ایم سی بنایا گیا تھا اور اس وقت ا ندازہ لگایا گیا تھا کہ جی ایچ ایم سی کے حدود میں کتوں کی تعداد چار لاکھ سے زائد ہوگی چونکہ اب تقریبا 6 سال ہورہے ہیں ایسے میں جی ایچ ایم سی کے حدود میں 6 تا 8 لاکھ آوارہ کتے پرورش پارہے ہوں گے ۔ وٹرنری ڈاکٹرس اور حفظان صحت کے شعبہ سے وابستہ ماہرین کے خیال میں کتوں کی آبادی میں اضافہ کی اہم وجہ شہر کے مختلف مقامات پر کچرا کی نکاسی میں تساہل ہے ۔
شہر میں آوارہ کتوں کی آبادی میں بے تحاشہ اضافہ سے پریشان شہریوں کے خیال میں جی ایچ ایم سی انیمل برتھ کنٹرول پروگرام کے سنٹرس کو حرکت میں آجانا چاہئے ۔ جس طرح ماہ ستمبر میں مختلف محلہ جات میں گشت کرتے ہوئے ڈاگس اسکواڈ نے 300 سے زائد آوارہ کتوں کو پکڑ کر ان کی نسبندی کی اسی طرح شہر میں یہ اسکواڈس گھوم پھر کر آوارہ کتوں کو پکڑنے کا سلسلہ جاری رکھے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک کتے کی نسبندی پر 770 تا 1000 روپئے کے مصارف آتے ہیں۔ گذشتہ سال جون تک شہر اور مضافات کے مختلف مقامات پر کتے کاٹنے کے 542 واقعات پیش آئے تھے اس مرتبہ اس تعداد میں ضرور اضافہ ہوا ہے ۔عالمی ادارہ صحت نے 2012 میں ایک رپورٹ پیش کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ہندوستان میں 30-40 ملین ( 3 تا 4 کروڑ ) سے زائد آوارہ کتے پھرتے ہیں اور ہر سال ہزاروں افراد خاص کر کمسن بچے ان کے کاٹنے سے متاثر ہوتے ہیں ۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق ہر سال ہمارے ملک میں کتے کاٹنے کے 20 تا 30 ہزار واقعات پیش آتے ہیں ۔ ماہرین کے مطابق دسمبر میں کتے بہت زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کرتے ہیں ۔ بہر حال اب دیکھنا یہ ہے کہ جی ایچ ایم سی کتوں کی تعداد میں ہونے والے مسلسل اضافہ پر کس طرح قابو پاتی ہے ۔۔