ہرسال عالمی یوم خواتین کے موقع پر صرف منصوبہ بندی ….
جہیزہراسانی کے سب سے زیادہ مقدمات آندھراپردیش میں ہی کیوں؟
ازدواجی جھگڑوںکی یکسوئی خاندانوںکے بجائے عدالت میںیکسوئی ، ارینج میرج پر لومیرج کاغلبہ اوردفعہ498Aطلاق کے اہم وجوہات؟
محمد جسیم الدین نظامی
حیدرآباد8مارچ۔ گذشتہ ماہ21فروری کو وزارت بہبودخواتین واطفال نے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو(NCRB) کے حوالے سے لوک سبھا کو بتا یا کہ جہیز ہراسانی مقدمات (ڈوری کیس)کے واقعات ملک بھرمیں سب سے زیادہ آندھراپردیش میں پیش آئے ،جہاں صرف ایک سال یعنی 2012 میں اسطرح کے جملہ2511 کے مقدمات درج کئے گئے ہیں۔جبکہ دوسرے نمبرپر اڈیشہ 1487،اوربہار1353کیسس کے ساتھ تیسرے نمبرپرہے۔یہ اعدادو شمار ہندوستانی معاشرہ خاص کر مسلم معاشرے کیلئے انتہائی تشویش کا باعث ہے۔ طلاق اورخلع کے بڑھتے ہوئے واقعات سماج کا ایک ایساناسور ہے جس پراگراجتماعی طور پر کنٹرول کرنے کی کوشش نہیں کی گئی تو یہ ناسور دھیرے دھیرے پورے سماج کو تباہ کردیگا۔ ایک ایسے وقت جب آج دنیا بھر میں عالمی یوم خواتین منا یا جارہا ہے، اس حقیقت کا انکشاف افسوسناک ہے کہ صرف حیدرآبادمیں طلاق کے یومیہ اوسطاً 7تا10واقعات پیش آرہے ہیں۔ شہرکے ویمن پولیس اسٹیشن میںہرماہ 30 تا40 کیسس دفعہ498A کے تحت درج کئے جارہے ہیںجسمیں خواتین شوہراورسسرالی رشتہ داروںکی ظلم وزیادتی کاذکرکررہی ہیں ۔
بتایا جاتاہے کہ اگرایک بارمعاملہ پولیس یا عدالت میں چلاجائے تو 99 فیصد معاملات میں اس کا اختتام طلاق اورخلع کی صورت میں ظاہرہوتاہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ’’طلاق یا خلع کا سبب ‘‘بنے والے چند ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں اورمعاملات ہوتے ہیںجسے خاندانی سطح پر ہی باہمی افہام وتفہیم کے ذریعہ سلجھایا جا سکتاہے،مگر شوہر اوربیوی سے زیادہ دونوںخاندا نوں کی’’انانیت‘‘ معاملے کو مزیدالجھانے کا سبب بنا دیتی ہے،اور نتیجہ پولیس ،کورٹ کچہری کا چکر اورطلاق کی صورت میں نکلتا ہے۔بتایاجاتاہے کہ مذہبی تعلیم سے دوری اورٹی وی سیریلس کے کردار کو عملی زندگی میں اتارنے کی کوشش اورارینج میرج پرلومیرج کے غلبہ نے سماجی زندگی کے تانے بانے بکھیر کررکھ دئے ہیں۔مشترکہ خاندان اوربزرگوںکی پسندسے ہونے والی شادی میں بتدریج کمی آتی جارہی ۔مگریہ ایک حقیقت ہے کہ لومیرج کرنے والے جوڑے بھی حقیقی زندگی میں ’’توقعات برعکس‘‘ مسائل پیدا ہونے کے بعد پولیس اسٹیشن اورعدالت کا ہی دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیںجس کا نتیجہ طلاق کی صورت میں نکلتاہے۔شہرکے وکلاء کے مطابق فوجداری عدالت میں مسلمانوںکی جانب سے جو مقدمے دائر کئے جاتے ہیں ان میں نصف سے زائد مقدمات کاتعلق ڈوری کیس سے ہوتاہے، جبکہ مابقی مقدمات جائیدا د اور دیگرتنازعوں سے تعلق رکھتاہے ۔
شہرکے ایک وکیل نے اس کربناک حقیقت کا انکشاف کیا کہ زیادہ ترمعاملات میں498A ایکٹ کا غلط استعمال کیا جارہاہے اور عموماً اسکے لئے لڑکی سے زیادہ انکی والدہ ذمہ دار ہوتی ہیں ،اگرکوئی وکیل انہیں سمجھانے کی کوشش کرے تو وہ کسی اور وکیل کے پاس جانے کوتر جیح دیتی ہیں مگرجہیزہراسانی کیس دائرکرنے سے پیچھے ہٹنا گوارہ نہیں کرتیں۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ بگڑجانے کی صورت میں پہلے ، (1) ڈوری کیس کی جاتی ہے، جوبعدمیں (2 ) طلب زوجہ(3) نفقہ اور پھر(4) فسخ نکاح اس طرح جملہ چار کیسس تک معاملہ پہنچ جاتاہے نتیجتاً برسوںتک یہ کیسس لڑتے لڑتے نہ صرف میاں بیوی بلکہ دونوں خاندان تباہی و بربادی کا شکارہوجاتے ہیں۔انہونے اپنے تجربے کی روشنی میںبتایاکہ زیادہ تر معاملات میںخواتین کی جانب سے ہی طلاق اور خلع کے مطالبات سامنے آتے ہیں،جو اپنے سسرالی رشتہ دار وں اورشوہر وں کی جانب سے نظرانداز کردئے جانے ،جہیز کے حوالے سے طعنہ وتشنیع ، فریقین کے مزاج میں ہم آہنگی کا فقدان اور ازدواجی حقوق کی عدم تکمیل کے باعث ، اپنے شوہروں کو’’ سبق سکھانے ‘‘ کا فیصلہ کرلیتی ہیںیا ایسا کرنے پرمجبورکردی جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ایسی تنظیم یا ادارہ نہیں جو ایسے واقعات کے تدارک کیلئے ایسے اقدامات روبہ عمل لائیں جسکے ذریعہ مسلم معاشرے میں طلا ق اورخلع کے بڑھتے ہوئے واقعات کو ختم نہ سہی کم تو کیا جاسکے۔