جوبلی ہال میں نظام حیدرآباد کی تاریخی یادگاروں کے تحفظ پر زور

سابق ایم ایل سی جناب ابراہیم بن عبداللہ مسقطی کا سوامی گوڑ کو مکتوب
حیدرآباد۔17۔نومبر (سیاست نیوز) سابق رکن قانون ساز کونسل و بزرگ قائد جناب ابراہیم بن عبداللہ مسقطی نے صدرنشین قانون ساز کونسل سوامی گوڑ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے جوبلی ہال میں واقع نظام حیدرآباد کی تاریخی یادگاروں کے تحفظ کیلئے اقدامات کرنے کی اپیل کی۔ جناب مسقطی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جوبلی ہال کو جسے تلنگانہ قانون ساز کونسل میں منتقل کردیا گیا، وہاں موجود آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں کی تعمیر کردہ یادگار کے تحفظ پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوبلی ہال کے لان میں موجود تاریخی مسند شاہی خستہ حالی کا شکار ہے اور حکومت اس کی تعمیر اور مرمت سے غافل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تاریخی مسند شاہی کا تحفظ تلنگانہ حکومت کی ذمہ داری ہے اور صدرنشین قانون ساز کونسل کو چاہئے کہ اس سلسلہ میں حکومت کی توجہ مبذول کریں۔ جناب مسقطی نے کہا کہ جوبلی ہال میں نظام حیدرآباد کی گولڈن جوبلی سے متعلق تاریخی تصاویر کو نکالنے کی سازش کی جارہی ہے۔ تاکہ تلنگانہ ارکان کو نظام دکن کی تاریخ سے ناواقف رکھا جائے۔ اس سازش کے تحت نظام کی تصاویر کے ساتھ منسلک تاریخی تفصیلات پر مشتمل تختیوں کو نکال دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت ایک طرف نظام کے کارناموں کا اعتراف کرتی ہے اور نظام کے کارناموں کو تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کا اعلان کیا گیا لیکن جوبلی ہال میں تاریخی شاہکاروں کے ساتھ غفلت حکومت کی دوہری پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔ جناب مسقطی نے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سے مطالبہ کیا کہ وہ جوبلی ہال اور دیگر تاریخی تعمیرات کے تحفظ پر توجہ مبذول کریں اور جوبلی ہال میں موجود مسند شاہی کی تزئین نو کیلئے خصوصی بجٹ الاٹ کرنے چیف منسٹر سے نمائندگی کریں۔ جناب مسقطی نے کہا کہ صرف نظام حیدرآباد کو خراج عقیدت پیش کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ حکومت کو ان سے متعلق تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے ذریعہ اپنی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جوبلی ہال کی تاریخی عمارت تلنگانہ اور آندھراپردیش دونوں حکومتیں اپنی اپنی کونسل کے طور پر استعمال کر رہی ہے لیکن انہیں عمارت کے تحفظ سے کوئی دلچسی نہیں۔