جنیوا کنونشن نے فلسطینی ریاست کے حق کو تسلیم کرلیا

جنیوا ۔ 17 ۔ ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) بین الاقوامی برادری نے فلسطینی مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم میں اسرائیل کی جانب سے یہودی بستیوں کی تعمیر کی کوششوں کو آج زبردست دھکہ دیتے ہوئے فلسطینی ریاست کے حقوق کو تسلیم کرلیا اور کہا کہ مقبوضہ علاقوں میں تعمیرات کا عمل مقبوضہ ملک کی ذمہ داری کی بدترین خلاف ورزی ہے۔ چوتھے جنیوا کنونشن کے 196 رکن ممالک کے منجملہ 126 ارکان نے اتفاق رائے سے ایک اعلامیہ کو منظوری دیدی جس میں پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تصادم سے متاثرہ علاقوں میں بین الاقوامی انسانی قوانین پر عمل آوری کی جائے۔ دوسری طرف یوروپی پارلیمان نے بھی فلسطینی ریاست کو اصولی طور پر تسلیم کرنے اور تنازعے کے دوریاستی حل کیلئے ایک مفاہمتی قرارداد منظور کر لی ہے۔یوروپی پارلیمان میں نمائندگی کی حامل بڑی جماعتوں کے درمیان ڈیل کے بعد اس قرارداد کو پیش کیا گیا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ ’’یوروپی پارلیمان اصولی طور پر فلسطینی ریاست اور تنازعے کے دوریاستی حل کو تسلیم کرتی ہے اور یہ یقین رکھتی ہے کہ ایسا امن مذاکرات میں پیشرفت کی صورت میں ہونا چاہیے‘‘۔یوروپی پارلیمان کے سوشل ڈیموکریٹ ،بائیں بازو

اور گرین پارٹیوں کے ارکان نے اس قرارداد کو علامتی رائے شماری کیلئے پیش کیا تھا۔اس میں یوروپی یونین کے رکن 28 ممالک پر زوردیا گیا ہے کہ فلسطینی ریاست کو اب کسی قسم کی شرط کے بغیر تسلیم کرلیں۔مذکورہ قرارداد پر یوروپی پارلیمان میں رائے شماری تنظیم کے رکن ملک سویڈن کی جانب سے اکتوبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے اور برطانیہ ،فرانس اور آئیر لینڈ کی پارلیمانوں میں اس کے حق میں غیر پابند قراردادوں کی منظوری کے بعد کی گئی ہے۔بعض یوروپی ممالک فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امریکہ کی سرپرستی اور ثالثی میں اسی سال اکتوبر میں امن بات چیت معطل ہونے کے بعد سے اپنی تشویش اور مایوسی کا اظہار کررہے ہیں۔اسرائیل کی جانب سے قیام امن کیلئے اقدامات کے بجائے فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری کو جاری رکھنے کی وجہ سے ان ممالک کی تشویش میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔تاہم یوروپی پارلیمان میں سب سے بڑے گروپ یوروپی پیپلز پارٹی اور چوتھے بڑے گروپ اتحاد برائے لبرلز اور ڈیموکریٹس یوروپ نے کہا ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اقدام اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں طئے کرنے والے معاہدے کے تحت ہونا چاہیے۔درایں اثناء￿ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے متعلق ایک مجوزہ قرارداد پیش کی جارہی ہے۔فلسطینی وزیرخارجہ ریاض المالکی کا کہنا ہے کہ اس قرارداد کو آج ہی سلامتی کونسل میں پیش کیا جاسکتا ہے۔تاہم کسی کشیدگی سے بچنے کیلئے اس پر رائے شماری مؤخر کی جاسکتی ہے۔ریاض المالکی کا کہنا تھا کہ اس قرارداد کی عبارت پر مزید بات چیت ہوسکتی ہے ۔

حماس پر یوروپی عدالت کے فیصلے پر اسرائیل برہم
یروشلم۔ 17 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے آج یوروپی یونین سے درخواست کی کہ حماس کو اس کی دہشت گرد سرگرمیوں کے پیش نظر بدستور بلیک لسٹ میں برقرار رکھا جائے۔ اس مطالبہ سے کچھ دیر قبل ہی یوروپی یونین کی عدالت نے حماس کا نام دہشت گرد تنظیموں کی بلیک لسٹ سے خارج کرنے کا حکم دیا تھا۔ نتن یاہو نے کہاکہ ’’ثبوتوں کا بوجھ یوروپی یونین پر ہے اور ہم توقع کرتے ہیں کہ حماس کو اس فہرست میں برقرار رکھنا چاہئے‘‘۔