جولائی کی قطعی آخری مہلت سے پہلے معاہدہ کی راہ ہموار کرنا دونوں ملکوں کا مقصد
جنیوا 9 جون (سیاست ڈاٹ کام ) ایران اور امریکہ کے سینئر سرکاری عہدیدار آج جنیوا میں راست بات چیت کیلئے تیار ہیںجس کا مقصد ایران کے متنازعہ نیو کلیئر پروگرام کے بارے میں پائے جانے والے اختلافات قطعی معاہدہ کیلئے قطعی آخری مہلت جولائی سے پہلے دور کرلئے جائیں۔ اسلامی جمہوریہ کا مقصد بین الاقوامی تحدیدات ختم کرنے کی سمت ایک چھلانگ لگانا ہے جن کی وجہ سے اس کی معیشت تباہ ہوچکی ہے ۔ امریکہ اور اس کے حلیف ممالک کا مقصد ایران کے مبینہ ایٹمی توانائی پروگرام کو نیو کلیئر بم تیار کرنے کی کوشش میں تبدیل ہونے سے روکنا ہے۔ یہ مذاکرات جنیوا کی ایک ہوٹل میں منعقد کئے جائیں گے۔ گزشتہ دو دن سے مذاکرات کے آغاز کا انتظار کیا جارہا تھا ۔ یہ ہوٹل بند دروازہ کے سفارتی مذاکرات کیلئے ایک روایتی مقام ہے ۔ حال ہی میں یہاں شام اور یوکرین کے موضوع پر اجلاس منعقد کئے جاچکے ہیں۔ عباس ارغچی نے جو ایران کے نائب وزیر خارجہ اور نیو کلیئر قاصد ہیں کل کہاں کہ امریکی عہدیداروں کیساتھ بات چیت ضروری ہے کیونکہ سودے بازی اہم موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ جنیوا کا اجلاس 1980ء کی دہائی کے بعد پہلی بار ایرانی اور امریکی عہدیداروں کا باہمی ربط ہوگا۔ نیو کلیئر مسئلہ پر وسیع تر P5+1 کے دائرہ کار سے باہر بات چیت کی جائے گی۔ P5+1 گروپ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان برطانیہ ،چین، فرانس ،روس اور امریکہ کے علاوہ جرمنی پر مشتمل ہیں جو ایرانی نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں قطعی فیصلے کا ایک عرصہ سے خواہاں ہیں۔ایرانی خبر رساں ادارہ ارنا کے بموجب ارغچی نے کہا کہ ایران ہمیشہ سے امریکہ کیساتھ P5+1 گروپ کیساتھ مذاکرات کے دوران علحدہ طور پر بات چیت کا خواہاں رہا ہے لیکن چونکہ مذاکرات اہم مرحلہ میں پہنچ گئے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ کیساتھ راست مذاکرات کئے جائیں۔ جنیوا میں امریکی ٹیم کی قیادت نائب وزیر خارجہ بل برنس اور جیک سلیوان کریں گے جو وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ سطح کے مشیر ہیں۔