جنگجوؤں پر بمباری کرنے امریکہ سے عراق کی باقاعدہ اپیل

بغداد ۔ 18 جون ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) عراق نے آج امریکہ سے باقاعدہ اپیل کی کہ وہ جنگجوؤں پر بمباری کرے جنہوں نے عراق کی اصل آئیل ریفائنری پر حملہ کردیا اور شمال میں عراق کے 75 فیصد علاقہ پر قبضہ کرلیا ہے۔ یہ اپیل اس وقت کی گئی جب عراق میں جنگجوؤں نے اپنی پیشرفت جاری رکھتے ہوئے آج ملک کی سب سے بڑی آئیل ریفائنری پر حملہ کردیا۔ دوسری طرف وزیراعظم نوری المالکی نے صورتحال کو اپنے قابو میں کرنے کی کوشش کے طورپر سکیورٹی کمانڈرس کو برطرف کردیا اور سیاسی حریفوں سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ اب تک فضائی حملوں کے بارے میں پس و پیش کا شکار ہے اور اُس نے کہاکہ عراق کی سکیورٹی فورسیس کو دہشت گردوں کے اس حملے کے خلاف مقابلہ کرنا چاہئے ۔ ایران نے عہد کیا ہے کہ وہ عراق میں موجود مذہبی مقامات کو عرب جنگجوؤں کے حوالے ہونے نہیں دے گا ۔ امریکہ نے بغداد میں اپنے سفارتخانہ کے تحفظ کیلئے تقریباً 275 فوجی عملے کو متعین کیا ہے ۔ پہلی مرتبہ اُس نے برسرعام سفارتخانہ کی سکیورٹی کے تعلق سے اس طرح کا موقف اختیار کیا جبکہ دیگر کئی ممالک نے اپنے شہریوں کے تخلیہ اور تمام سفارتکاروں کو واپس بلالینے کی خواہش ظاہر کی ہے ۔وزیرخارجہ عراق ہوشیار زبیری نے کہا کہ عراق نے سرکاری طور پر باقاعدہ امریکہ سے بمباری کی اپیل کی ہے۔ ہوشیار زبیری اس وقت سعودی عرب میں او آئی سی کانفرنس میں شرکت کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فوجی کارروائی ہی کافی نہیں ہوگی بلکہ ہم کو عراق کا سیاسی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ عراق میں جاری بحران کی وجہ سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں اور ملک کی سالمیت کو سنگین خطرہ لاحق ہے ۔ جنگجوؤں نے آج بائیجی آئیل ریفائنری پر حملہ کردیا جس کے نتیجہ میں بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کا امکان ہے ۔ بین الاقوامی معیار وقت کے مطابق تقریباً 0430 بجے ریفائنری کامپلکس میں جھڑپیں شروع ہوئی ۔ یہ ریفائنری شمالی بغداد کے صوبہ صلاح الدین میں واقع ہے ۔ ریفائنری کے ایک سینئر عہدیدار اور ملازم نے بتایا کہ تیل کی مصنوعات کے بعض ذخیروں کو آگ لگ گئی ۔ یہ عراق کی سب سے بڑی ریفائنری ہے ۔ قبل ازیں عہدیداروں نے کہا تھا کہ ریفائنری کو بند کردیا جارہا ہے اور کئی ملازمین نے یہاں سے تخلیہ کردیا کیونکہ جنگجو اپنی پیشرفت جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ شمالی علاقہ کو سرکاری کنٹرول سے آزاد کراچکے ہیں۔ کئی بڑے شہروں میں ریفائنڈ آئیل پراڈکٹس کی سربراہی عمل میں نہیں لائی جارہی ہے ۔ دنیا بھر میں تیل کے پیداوارکنندہ ممالک اسو قت عراق کی صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیںکیونکہ عراق ایک ایسا ملک ہے جو یومیہ تقریباً 2.5 ملین بیارل تیل برآمد کرتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ملک کی بڑی کروڈ سربراہی اس وقت محفوظ ہے ۔ وی ٹی بی کیپٹل کے تجزیہ نگار اینڈرے کرایوچنکوف نے بتایاکہ بصرہ میں واقع آئیل انفراسٹرکچر اور تیل کی پیداوار سے متعلق دیگر سہولیات اس وقت کارکرد ہیں

اور معمول کے مطابق اپنا کام کررہی ہیں۔ انھوں نے خبردار کیا کہ صورتحال انتہائی کشیدہ اور غیریقینی ہوتی جارہی ہے ۔ اس دوران وزیراعظم نوری المالکی نے جنگجوؤں کی جارحانہ کارروائی پر قابو پانے کے مقصد سے کل رات کئی سرکردہ سکیورٹی کمانڈرس کو برطرف کردیا ۔ اس کے بعد وہ اپنے کئی حریف جماعتوں کے قائدین کے ساتھ شامل ہوگئے اور اتحاد کا مظاہرہ کیا جو عراق میں بہت کم دیکھنے میں آرہا تھا۔ انھوں نے جن کمانڈرس کو معزول کیا اُن میں شمالی صوبہ نینوا کے کمانڈر بھی شامل ہیں۔ یہ پہلا علاقہ ہے جہاں 9 جون کو حملہ کرتے ہوئے جنگجوؤں نے اپنے قبضہ میں کرلیا تھا۔ نوری المالکی نے ایک اور عہدیدار کو انحراف کی پاداش میں کورٹ مارشل کا حکم دیا۔ دوسری طرف پینٹگان کے ترجمان ریر ایڈمیرل جان کیروائی نے کہا کہ عراقی فوج رضاکارانہ عوام کی مدد سے بغداد کے اطراف سخت مزاحمت کررہی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ یقینا ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنے دارالحکومت کا دفاع کرسکتی ہے ۔امریکہ اور دیگر مغربی ملکوں نے عراق کو بچانے کی کوششوں کا آغاز کردیا ہے۔ وزیراعظم نوری المالکی کو مشورہ دیا گیا ہیکہ وہ تمام گروپوں سے بات کریں۔ اس لئے وزیراعظم نے قومی اتحاد کی اپیل بھی کی ہے۔ ٹیلی ویژن خطاب میں انہوں نے تمام قبائیلی سرداروں سے کہا ہیکہ وہ دوبارہ متحد ہوجائیں تاکہ قاتلوں اور مجرموں کا مقابلہ کرسکیں۔