حیدرآباد۔/12ڈسمبر، ( سیاست نیوز) ہائی کورٹ نے تاریخ پیدائش میں تحریف سے متعلق معاملہ میں جنرل منیجر اقلیتی فینانس کارپوریشن سید ولایت حسین کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے منیجنگ ڈائرکٹر کی جانب سے جاری کردہ نوٹس پر حکم التواء جاری کیا ہے۔ 25نومبر کو جسٹس آر کانتا راؤ نے درخواست کی سماعت کی اور 9ستمبر کو نائب صدر نشین و منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹس پر مزید کارروائی پر 6ہفتوں کی روک لگادی ہے۔ عدالت نے رجسٹرار عثمانیہ یونیورسٹی، کنٹرولر اگزامنیشن عثمانیہ یونیورسٹی اور محمد لیاقت علی کو نوٹسیں جاری کرتے ہوئے حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ درخواست گذار نے عدالت کو بتایا کہ تاریخ پیدائش کے سلسلہ میں تنازعہ اور کنٹرولر آف اگزامنیشن عثمانیہ یونیورسٹی کی جانب سے روانہ کردہ مکتوب کی بنیاد پر منیجنگ ڈائرکٹر نے نوٹس جاری کی کہ کیوں نہ انہیں فوری خدمت سے سبکدوش کردیا جائے۔ کنٹرولر آف اگزامنیشن نے یونیورسٹی کے ریکارڈ کے مطابق سید ولایت حسین کی تاریخ پیدائش 19جنوری 1953 بتائی ہے جبکہ درخواست گذار کا دعویٰ ہے کہ ان کی تاریخ پیدائش 19جنوری 1958ہے۔ منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن کی جانب سے جوابی حلف نامہ داخل کیا جارہا ہے۔