جموں و کشمیر کے مفاد میں اسمبلی کو تحلیل کیا: گورنر ستیہ پال

جموں ، 22 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر اسمبلی کو تحلیل کرنے کے ایک روز بعد گورنر ستیہ پال ملک نے جمعرات کو کہا کہ انھوں نے ریاست کے مفاد اور اس کے دستور کی مطابقت میں کام کیا ہے۔ ستیہ پال نے کہا کہ کافی جوڑ توڑ ہورہی تھی نیز یہ کہ وہ منحرفین کی حکومت بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انھوں نے میڈیا والوں کو بتایا: ’’میں نے جموں و کشمیر کے دستور کے مطابق کام کیا اور ریاست کے مفاد میں ریاستی اسمبلی کو تحلیل کیا ہے۔‘‘ گورنر نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ریاست میں چناؤ منعقد کئے جائیں اور منتخبہ حکومت کام کرے۔ راج بھون میں فیکس کام نہ کرنے کے تعلق سے پوچھنے پر انھوں نے کہا کہ چہارشنبہ کو عید میلادالنبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کا موقع تھا، جس کے نتیجے میں اُن کے دفتر کو پی ڈی پی کا مکتوب موصول نہیں ہوا جس میں تشکیل حکومت کیلئے دعوے داری پیش کی گئی اور اس کے ساتھ ساتھ نیشنل کانفرنس (این سی) کا تائیدی مکتوب بھی موصول نہیں ہوا۔ گورنر نے پی ڈی پی کی جانب سے حریف این سی اور کانگریس کی حمایت کے ساتھ حکومت تشکیل دینے کی دعوے داری پیش کرنے کے چند گھنٹوں میں چہارشنبہ کی رات یکایک ریاستی اسمبلی تحلیل کردی۔ اس کے بعد ایک اور کوشش دو رکنی پیپلز کانفرنس پارٹی کی طرف سے ہوئی جس نے بی جے پی اور دیگر پارٹیوں سے 18 لیجسلیٹرز کی حمایت حاصل ہونے کا دعویٰ کیا۔