نئی دہلی ۔ 21 ۔ فروری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : بی جے پی تاریخ میں پہلی مرتبہ پی ڈی پی کے ساتھ جموں و کشمیر میں مخلوط حکومت کا حصہ ہوگی ۔ پی ڈی پی سربراہ مفتی محمد سعید چھ سال کے لیے چیف منسٹر ہوں گے لیکن دو جماعتوں کے مابین اتحاد کے لیے جو ایجنڈہ تیار کیا گیا اس میں بی جے پی کی سمت جھکاؤ زیادہ ہے ۔ سمجھا جاتا ہے کہ مفتی محمد سعید کو پوری میعاد کے لیے چیف منسٹر بنائے جانے کے علاوہ دیگر متنازعہ مسائل پر پی ڈی پی کے مطالبات کو بی جے پی نے تسلیم نہیں کیا ۔ یہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لیے کامیابی سمجھی جارہی ہے ۔ جموں میں سنگھ پریوار کیمپ اس تاریخی لمحہ کا جشن منا رہا ہے ۔ پارٹی کے ایک لیڈر نے کہا کہ بی جے پی 60 سال بعد پہلی مرتبہ جموں و کشمیر حکومت کا حصہ بننے جارہی ہے اور یہ پارٹی کیڈر و قائدین کی قربانیوں کا نتیجہ ہے ۔ ایک اور سینئیر پارٹی لیڈر نے اسے تاریخی موقع قرار دیا ۔ بی جے پی امکان ہے کہ نرمل سنگھ کو ڈپٹی چیف منسٹر بنائے گی ۔
نہایت معتبر ذرائع نے ایک ٹی وی نیوز چیانل کو تصدیق کی ہے کہ پی ڈی پی اور بی جے پی اُن مسائل پر متفق ہوگئے ہیں جو انھیں نظریاتی طور پر برسہا برس سے منقسم رکھتے رہے۔ کافی محتاط مذاکرات کے نتیجے میں جو مشترک اقل ترین پروگرام (سی ایم پی) انھیں یکجا کررہا ہے اسے پی ڈی پی لیڈر مفتی محمد سعید نے ’این ڈی ٹی وی‘ کو انٹرویو میں ’’قطب شمالی اور قطب جنوب‘‘ قرار دیا ہے۔ مفتی سعید نے بظاہر پی ڈی پی کے کلیدی مطالبہ پر اپنا موقف منوا لیا ، جو آرٹیکل 370 کا تقدس ہے۔ پی ڈی پی نے تحریری تیقن کا مطالبہ کیا تھا کہ اس ریاست کے موجودہ دستوری درجہ کو برقرار رکھا جائے گا۔ ذرائع نے تصدیق کی کہ بی جے پی اور پی ڈی پی اس نہج پر متفق ہوچکے ہیں جو اس فارمولے کو تقویت پہنچاتا ہے۔ بی جے پی کے منشور میں اس آرٹیکل کی تنسیح کی بات ہے جو اس ریاست کو انڈین یونین میں خصوصی موقف دیتا ہے۔ تاہم اس کلیدی ایجنڈے پر بی جے پی کا نرم پڑنا ریاستی اسمبلی انتخابات میں عیاں ہوا
جب اس کے قائدین میں کسی نے بھی انتخابی تقاریر میں کوئی تذکرہ تک نہیں کیا۔ قانون خصوصی اختیارات برائے مسلح افواج (AFSPA) کے مزید متنازعہ مسئلہ پر ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں پارٹیوں نے ایک فارمولا طئے کرلیا ہے جو اس ریاست میں ملٹری موجودگی کو بتدریج گھٹانے اور ایسے علاقوںمیں آرمی کی جگہ مقامی پولیس کو متعین کردینے کی اجازت دیتا ہے جہاں کی سکیورٹی صورتحال میں بہتری آئی ہو۔ پی ڈی پی کے دیگر کلیدی مطالبات میں پاکستان کے ساتھ مصالحتی عمل اور حریت کے ساتھ بات چیت شامل ہیں۔ این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے مفتی سعید نے کہا کہ حریت کے احساسات سے چاہے کوئی اتفاق کرے یا عدم اتفاق، مگر یہ ایسے تاثرات ہیں کہ نئی دہلی کو مشغول ہونا پڑے گا۔ انھوں نے بات چیت کو وزیراعظم نریندر مودی کیلئے ’’عظیم موقع‘‘ قرار دیا کہ جموں و کشمیر میں واجپائی کے کام کو آگے بڑھایا جائے۔