نماز بیماریوں سے بچاؤ کا بہترین طریقہ ، فزیکل فٹنس ایکسپرٹ محمد ابراہیم جیلانی سے بات چیت
حیدرآباد ۔ 17 ۔ دسمبر : ( محمد ریاض احمد) : لوگ آج کل جوڑوں کے درد ، پیٹھ اور گردن میں تکلیف ، ذہنی دباؤ ، جلدی امراض ، بلڈپریشر ، شوگر ، جیسی بیماریوں میں مبتلا ہونے کی شکایت کرتے ہیں اگر ہم پانچوں وقت کی نماز خشوع و خضوع سے ادا کرنے لگے تو کئی ایک بیماریوں سے خود بخود ہماری حفاظت ہوجاتی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار ماہر یوگا و فزیکل فٹنس ایکسپرٹ محمد ابراہیم جیلانی نے ایک ملاقات میں کیا جو گذشتہ سات برسوں سے املی بن پارک سالارجنگ پل اور شہر کے دیگر مقامات پر اپنی اہلیہ کے ہمراہ یوگا کی مفت کلاسیس لیتے ہیں بتایا کہ نماز انسان کو چست و چوبند رکھنے اس کے جسم کے مختلف نظاموں کو کارکرد رکھنے کا سب سے بہترین ذریعہ ہے ۔ ہمارے دین اسلام میں صحت و تندرستی کی برقراری پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے ۔ اس میں علاج بذریعہ غذا ، علاج بذریعہ دوا اور علاج بذریعہ تدبیر (بالتدبیر ) کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے ۔ علاج بالتدبیر میں مراقبہ بھی شامل ہے اور یوگا میں زیادہ تر مراقبہ پر ہی توجہ مرکوز کی جاتی ہے ۔ جناب محمد ابراہیم جیلانی کے مطابق یوگا کے ویسے تو ہزاروں آسن ہیں لیکن عموما تین آسنوں کا بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے ۔ ان آسنوں کے ذریعہ اعضاء اور جسم میں پائے جانے والے غدود کو کنٹرول کیا جاتا ہے لیکن اس کے لیے ہمارے جسم کو لکچدار ہونا چاہئے ۔ لوگوں کو یوگا کے مختلف گُر سکھانے والے اس ماہر یوگی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہماری نمازوں میں حکمت ہی حکمت ہے ۔ جب انسان نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے سارے جسم میں سکون کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے ۔ نچلے حصوں میں دوران خون بہتر انداز میں ہوتا ہے ۔ تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ کر قرات شروع کرتا ہے تو قرآن پاک کی تلاوت کا اثر اس کے ذہن و قلب پر ہوتا ہے ۔ جس سے انسان کو ذہنی و قلبی امراض سے چھٹکارا پانے میں مدد ملتی ہے ۔ اگر کسی کو قلبی سکون حاصل ہوتا ہے تو وہ سب سے بڑی بات ہے جب کہ نماز میں ٹھہرتے ہی انسان کو قلبی و ذہنی سکون حاصل ہوجاتا ہے ۔ طبیعت میں پائی جانے والی بے چینی دور ہوجاتی ہے ۔ بندہ جب رکوع میں جاتا ہے تو خون کا بہاؤ جسم کے درمیانی حصہ میں بہتر انداز میں ہوتا ہے ۔ اسی طرح سجود کے دوران خون کا دوران جسم کے اوپری حصہ یعنی سر میں ہونے لگتا ہے ۔ دماغ کو خون اچھی طرح پہنچتا ہے جس سے ذہنی سکون کے ساتھ ساتھ یادداشت بڑھتی ہے ، بینائی تیز ہوتی ہے اور کسی چیز پر توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتاہے ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جسم لچکدار ہوتا ہے ۔ اسی طرح نماز کے دوران جسم میں کیمیائی تعامل بہتر انداز میں انجام پاتا ہے ۔ جیلانی صاحب کے مطابق دنیا کے مشہور و معروف یوگا ماہرین کا کہنا ہے کہ جسمانی کسرت کا تصور دنیا کے کسی مذہب کی عبادت میں نہیں ہے بلکہ یہ صرف اور صرف دین اسلام کی عبادتوں میں پایا جاتا ہے ۔ ان کے خیال میں اگر کوئی طویل قعدہ کرتا ہے تو اسے کم از کم دو کیلو میٹر چہل قدمی کا فائدہ حاصل ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ سجود کے دوران دماغ میں خون کے بہاؤ سے یادداشت کی کمزوری ، برین ہیومرج اور نسیان کا عارضہ کے ساتھ ساتھ مرگی کی بیماری نہیں ہوتی ۔ اسی طرح سلام پھیرنے کے دوران گردن کی رگوں کو حرکت کرنے کا موقع ملتا ہے ۔ اس سے لوگ Cervical Spondylosis سے بھی بچ سکتے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں جناب جیلانی نے بتایا کہ ان کی اہلیہ محترمہ فہمیدہ جیلانی جو کہ فیشن ڈیزائنر بھی ہیں خواتین کو یوگا سکھاتی ہیں ۔ اس جوڑے کو دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے ۔ بیٹی ہاجرہ پروین ڈئیرائٹ امریکہ اور بیٹا محمد ندیم ربانی انجینئر کی حیثیت سے یو کے ، جب کہ دوسرے فرزند محمد کلیم یزدانی سعودی عرب میں مقیم ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ یوگا کرنے میں کوئی قباحت نہیں ۔ ہمارے دین اسلام میں خود کسرت کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ وہ خود بھی بھارتیہ بودھ سنستھان گاندھی گیان مندر ، بھارتیہ یوگا سنستھان وغیرہ سے یوگا کی تربیت حاصل کی ۔ ان کی یوگا کلاسیس میں ہندو مسلم مرد و خواتین کی کثرت رہتی ہے ۔ اس طرح ان کلاسس کو قومی یکجہتی کی مثال قرار دیا جاسکتا ہے ۔ جناب محمد ابراہیم جیلانی کے مطابق یوگا کے آسنوں کے ذریعہ موٹاپے کا علاج شوگر اور بی پی کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے ۔ قبض اور بواسیر و فیسٹولہ سے بچا جاسکتا ہے ۔ جیلانی صاحب کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے یوگا کو اسلامی رنگ میں رنگ دیا ہے ۔ تقریبا 70 برس کی عمر کے باوجود بالکل جوان نظر آنے والے محمد ابراہیم جیلانی کا کہنا ہے کہ خدمت خلق ایک بڑی عبادت ہے اور اسی جذبہ کے تحت وہ بلا لحاظ مذہب و ملت رنگ و نسل و ذات پات خدمت میں مصروف ہیں ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کھانے کی اچھی عادتیں اپنائی جائیں ۔ مرغن غذاؤں سے احتیاط برتی جائے اور ساتھ ہی ہر روز 15 تا 30 منٹ کسرت کی عادت بنالی جائے تو ہم کئی ایک بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔۔