عام آدمی کی خاص بات
جب تک پیٹھ پر وزن نہ ڈالوں تو پیٹ کیسے بھرے گا … صاحب !
حیدرآباد ۔ 13 ۔ جون : ( نمائندہ خصوصی ) : رکشہ جو کبھی حیدرآباد کی راہوں کا ایک لازمی جز ہوا کرتا تھا اور یہ عام و خواص کی ایک آسان سواری تھی جس پر پردہ کی پابند خواتین کے لیے باضابطہ پردہ کا اہتمام ہوتا تھا ۔ رکشہ نہ صرف عوام کے لیے ایک آسان سواری ہوا کرتی تھی بلکہ یہ غریب افراد کے اہل خاندان کی کفالت کا ذریعہ بھی ہوا کرتا تھا لیکن آج سڑکوں سے رکشے غائب ہوچکے ہیں اور عوام کا ذہن بھی بدل چکا ہے اور رکشہ کی سواری کو معیوب سمجھا جارہا ہے لیکن کچھ گھرانے آج بھی ایسے ہیں جن کی کفالت کا ذریعہ رکشہ ہی ہے ۔ شیخ صمد ان ہی لوگوں میں شامل ایک نام ہے جن کی آمدنی اور خاندان کی کفالت کا ذریعہ رکشہ ہی ہے ۔ 52 سالہ شیخ صمد کی پیدائش پربھنی کی ہے جو کہ 40 برس قبل حیدرآباد منتقل ہوئے ۔ نمائندہ سیاست سے اظہار خیال کرتے ہوئے معین باغ ، فتح شاہ نگر کے مقیم شیخ صمد نے کہا کہ وہ کبھی اسکول کی سیڑھی تک نہیں چڑھی ہے ۔ حیدرآباد منتقل ہونے سے قبل وہ اپنے آبائی مقام پر اینٹ کی بھٹی میں کام کرتے تھے اور حیدرآباد منتقل ہونے کے بعد بھی انہوں نے یہاں اینٹ کی بھٹی میں کام کرنا شروع کیا ۔ حیدرآباد میں ابتدائی عرصہ گذارنے کے بعد آج سے 35 سال قبل انہوں نے رکشہ چلانا شروع کیا تو اس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے لیکن شیخ صمد کے مطابق ان 35 برسوں میں بہت کچھ بدل گیا ہے ۔ نماز کے پابند شیخ صمد نے کہا کہ ابتداء میں رکشہ نہ صرف ایک عام سواری تھی بلکہ اس میں پردہ کی پابند خواتین کے لیے تو باضابطہ طور پر پردے ڈالے جاتے تھے لیکن وہ حجاب والا دور ختم ہوگیا ۔ برکت بھی ختم ہوگئی ۔ شیخ صمد نے کہا کہ وہ گذشتہ 35 برس سے رکشہ چلا رہے ہیں لیکن اب رکشہ عوام کی سواری باقی نہیں رہا ۔ لہذا انہوں نے اپنی آمدنی کے لیے رکشہ کے استعمال کا طریقہ بھی بدل ڈالا ۔ شیخ صمد نے کہا کہ وہ روزآنہ صبح 8 بجے عثمان گنج کی مارکٹ پہنچ جاتے ہیں اور رات 8 بجے تک پیاز ، ادرک ، آلو ، لہسن اور دیگر اشیاء کے وزنی تھیلے یہاں کی ہول سیل مارکٹ سے ریٹیل دکانات تک منتقل کرتے ہیں ۔ وزنی تھیلوں کو اپنی پیٹھ پر اُٹھا کر دکان سے رکشہ اور پھر منزل مقصود پر پہنچنے کے بعد رکشہ سے ان ہی وزنی تھیلوں کو دکانات میں منتقل کرنا اب ان کا کام بن چکا ہے ۔ شیخ صمد کا کہنا ہے کہ وہ اس سخت محنت سے روانہ 300 روپئے کمالیتے ہیں لیکن ماہانہ انہیں 600 روپئے رکشہ کا کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے ۔ مکان کا کرایہ 3000 ہزار روپئے ادا کرنے اور مہنگائی کے زمانے میں دیگر ضروریات زندگی کی تکمیل کے لیے ان کی آمدنی ناکافی ہے ۔ اور گھر پر بے روزگار بیٹے کو دیکھ کر طبیعت بگڑ جاتی ہے ۔ ’ آج کے بچے ‘ یہ کہہ کر شیخ صمد خاموش ہوگئے لیکن ان کی خاموشی کے درپردہ کئی ر از پوشیدہ ہیں ۔ شیخ صمد سے جب ان کے ذاتی رکشہ کی خریداری کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’ بھائی ! آج کل نیا رکشہ 10 ہزار روپئے میں آتا ہے جو میرے بس کی بات نہیں ۔‘ رکشہ چلاتے ہوئے شیخ صمد نے اپنے 6 بچوں میں 3 بچوں کی شادیاں کردی ہیں اور اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ بچوں کی شادی کر کے ذمہ داری تو پوری کردی لیکن میرے بچے وہ اب اپنے بچوں میں مگن ہے ۔ شیخ صمد کے اس جملے میں بھی ایک کرب پوشیدہ ہے ۔ شیخ صمد کی زندگی بھی ’ روز کمانا تو روز کھانا ‘ کے دائرے پر چکر لگاتی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ بڑھتی عمر کی وجہ سے ان کے گھٹنوں میں شدید درد رہتا ہے اس کے باوجود انہیں محنت کرنی پڑتی ہے ۔ وزنی تھیلے اٹھانے کی محنت کافی سخت ہوتی ہے لیکن اس پر محنتی شیخ صمد کا کہنا ہے کہ ’ جب تک پیٹھ پر وزن نہ ڈالوں تو پیٹ نہیں بھرے گا … بیٹا ! اتوار کو مارکٹ بند ہونے سے بھی شیخ صمد مایوس رہتے ہیں اور چھٹی کا یہ دن ان کے لیے مشکل کا دن ہوتا ہے کیوں کہ ان کا کہنا ہے کہ ہاتھ ، پیر اور ان کی پیٹھ کو محنت کی عادت ہوچکی ہے ۔ قارئین جب ہم بھری مارکٹ میں شیخ صمد سے گفتگو کررہے تھے تو مارکٹ کے دکانات کے مالکین نے ان کے بارے میں کہا کہ شیخ صمد ایک انتہائی محنتی اور ایماندار شخص ہیں ۔ دکانات کے مالکین کے جملے سن کر یہ آسانی سے کہا جاسکتا ہے کہ اس عام آدمی کی بات میں کچھ خاص ہے ۔۔