نئی دہلی 19 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) مسلسل پانچویں دن بھی کانگریس کی قیادت میں متحد اپوزیشن نے راجیہ سبھا میں ہنگامہ آرائی کی اور جبری تبدیلی مذہب پر وزیر اعظم سے جواب کا مطالبہ کیا ۔ ہنگامہ آرائی کی وجہ سے لنچ سے قبل دو مرتبہ کارروائی کو ملتوی کرنا پڑا ۔ قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے حکومت سے اصرار کیا کہ متنازعہ مسئلہ پر ایوان میں مباحث کے بعد ان کا جواب وزیر اعظم دیں۔ حکومت نے تاہم اپنے موقف میں کسی طرح کی تبدیلی نہیں کی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ایوان میں مباحث کئے جاسکتے ہیں لیکن اس کا جواب متعلقہ وزیر دینگے ‘ وزیر اعظم نہیں ۔ اس کے بعد اپوزیشن کے ارکان نعرے لگاتے ہوئے ایوان کے وسط میں آگئے جس کے نتیجہ میں نائب صدر نشین پی جے کورین دو پہر تک کارروائی کو ملتوی کرنے پر مجبور ہوگئے ۔ غلام نبی آزاد راجیہ سبھا اجلاس سے گذشتہ کئی دنوں سے غیر حاضر تھے اور وہ جموں و کشمیر میں انتخابی مہم چلا رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ زبردستی یا پھر رقم ‘ راشن کارڈ یا بی پی ایل کارڈ کا لالچ دے کر مذہب تبدیل کروانا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ غیر دستوری اور فوجداری جرم ہے ۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بیرونی ممالک میں جس طرح کا استقبال وصول کر رہے ہیں وہ محض اس لئے ہے کیونکہ وہ 125 کروڑ ہمہ مذہبی آبادی والے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں دیکھا گیا ہے جب یہ شکوک تھے کہ وہ سماج کے تمام طبقات کی نمائندگی کرتے ان کا بیرونی ممالک میں خیر مقدم نہیں کیا گیا اور کچھ ممالک نے ان کے دوروں پر پابندی بھی عائد کردی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے انتخابات کے دوران خود اپنے لئے ووٹ مانگا ہے اور اپنی پارٹی بی جے پی کیلئے ووٹ نہیں مانگا تھا ۔ انہیں اس بات پر عوام نے تائید فراہم کی ہے کہ اگر ملک کے عوام انہیں اقتدار دینگے تو وہ عوام کو جوابدہ ہونگے ۔ غلام نبی آزاد نے ریمارک کیا کہ ’’ انہوں نے درد دیا ہے تو دوا بھی وہی دینگے ‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ مودی کو چاہئے کہ وہ ہندووں ‘ مسلمانوں ‘ سکھوں ‘ عیسائیوں اور دوسروں کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ وہ ملک میں نہ صرف محفوظ ہیں بلکہ ان کا مذہب بھی محفوظ ہے ۔
آزاد نے کہا کہ اپوزیشن مودی سے یہ مطالبہ نہیں کر رہی ہے کہ وہ گلی میں کھڑے ہو کر معذرت خواہی کریں بلکہ ان سے صرف اتنا کہا جا رہا ہے کہ وہ اٹل بہاری واجپائی جیسے قائدین سے مثال لیں اور ایوان کا احترام کریں۔ راجیہ سبھا کو آئیں ‘ یہاں بحث کی سماعت کریں اور اس کا جواب دیں۔ آزاد نے کہا کہ وزیر اعظم کو ایوان میں آنا چاہئے اور عوام کے اندیشوں اور شکوک کو دور کرنا چاہئے ۔ وزیر اعظم اور بی جے پی کو ہی اس سے فائدہ ہوگا کیونکہ ان کی خاموشی کے تعلق سے یہ تاثر عام ہوتا جا رہا ہے کہ وہ اور ان کی پارٹی جبری مذہب تبدیل کرنے کے واقعات کی حمایت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں یہ اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ حکومت تمام مذاہب کے ماننے والوں کا تحفظ کریگی ۔ وزیر ماحولیات پرکاش جاوڈیکر نے کہا کہ غلام نبی آزاد مباحث کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کرسکتے ہیں۔ آزاد نے جواب دیا کہ اگر وزیر اعظم آکر جواب دیں تو وہ مباحث کا آغاز کرنے کو تیار ہیں۔