نئی دہلی ۔ 19 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکز نے آج دہلی ہائیکورٹ کو بتایا کہ مغل دور کی تاریخی مسجد جامع مسجد دہلی ایک وقف جائیداد ہے۔ اس بات کا فیصلہ کرنا باقی ہیکہ مسجد کے نئے شاہی امام کی دستاربندی کس طرح کی جاسکتی ہے۔ مرکز نے اس دستاربندی کی تقریب کو چیلنج کیا ہے۔ مرکز نے چیف جسٹس جی روہنی اور جسٹس آر ایس انڈلوا کی بنچ سے کہا کہ دستاربندی تقریب میں کسے مدعو کیا جاتا ہے اور کسے مدعو نہیں کیا جاتا ہے یہ بے فضول بات ہے لیکن ہماری تاریخ کے ساتھ اس طرح کا کھلواڑ نہیں کیا جاسکتا۔ جامع مسجد دہلی کے موقف کو تسلیم کیا گیا ہیکہ یہ ایک وقف جائیداد ہے۔ اس بات کا فیصلہ کرنا باقی ہیکہ مسجد کے امام یا خطیب کی جانشینی کیلئے کونسا طریقہ اختیار کیا جائے۔ آر کیالوجیکل سروے آف انڈیا نے بھی عدالت سے درخواست کی ہیکہ وہ شہر کی جامع مسجد کو ایک یادگار عمارت قرار دے کیونکہ یہ قومی اہمیت کی حامل عمارت ہے۔ مرکز کا استدلال ہیکہ اس مسجد کا تحفظ ضروری ہے۔ جامع مسجد دہلی کے شاہی امام سید احمد بخاری کے فرزند کو جانشین بنانے کے فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئے داخل کردہ تین علحدہ مفاد عامہ کی درخواستوں کی سماعت کے دوران محکمہ آثار قدیمہ نے اپنا ادعا پیش کیا ہے۔ یہ مفاد عامہ کی درخواستیں سہیل احمد خان، اجئے گوتم اور وکیل بی کے آنند نے پیش کی ہیں۔ ان کا کہنا ہیکہ جامع مسجد دہلی وقف بورڈ کی جائیداد ہے۔ شاہی امام اس کے ملازم ہیں۔ وہ اپنے فرزند کو نائب امام کی حیثیت سے تقرر نہیں کرسکتے۔ عدالت نے کہا کہ وہ اس تعلق سے تمام تفصیلات کی کل سماعت کرے گی۔ شاہی امام نے 30 اکٹوبر کو اعلان کیا تھاکہ وہ اپنے 19 سالہ فرزند کو جانشین بنائیں گے اور 22 نومبر کو دستاربندی ہوگی۔