جامع سروے کے لیے عوام میں زبردست جوش و خروش ، 15 لاکھ افراد اپنے آبائی وطن روانہ

حیدرآباد ۔ 18 ۔ اگست : ( نمائندہ خصوصی ) : ریاست تلنگانہ میں 19 اگست کو ہونے والے جامع سروے کے حوالے سے ریاست کی عوام میں بے چینی کے ساتھ ساتھ زبردست جوش و خروش بھی پایا جارہا ہے ۔ ایسے افراد جو اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں اور حیدرآباد میں مقیم ہیں وہ بڑی تعداد میں اپنے اپنے آبائی مقام کے لیے روانہ ہوگئے ہیں ۔ جب کہ ایسے افراد بیرون ریاست دوسرے مقام پر سکونت پذیر ہیں ۔ وہ بھی اس سروے میں حصہ لینے کے لیے اپنے اپنے آبائی مقام کو لوٹ رہے ہیں ۔ ایشیا کے سب سے بڑے بس ڈپو ’ املی بن ‘ سے اضلاع کو روانہ ہونے والی تمام بسیں پر ہوچکی تھیں اور لوگوں کا زبردست ہجوم قطار لگائے اپنی اپنی بسوں کا انتظار کررہا تھا ۔ جن افراد کو بس کے اندر نشستیں نہیں مل سکیں وہ بسوں کے چھت پر سوار ہو کر روانہ ہورہے تھے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گذشتہ دو روز سے ہی لیبر اڈہ پر نہ مزدور دکھائی دے رہے ہیں اور نہ ہی بڑی مارکیٹوں میں خریداروںکا ہجوم نظر آرہا ہے ۔ بلدی عہدیداروں نے بتایا کہ تلنگانہ کے مختلف اضلاع سے تقریبا 20 لاکھ افراد روزگار اور ذریعہ معاش کے لیے حیدرآباد میں مقیم ہیں جن میں سے تقریبا 15 لاکھ افراد اپنے آبائی وطن واپس ہوں گے ۔ دوسری طرف زیراکس سنٹرس پر لوگوں کا ہجوم دیکھا جارہا ہے ۔ جہاں لوگوں کو اپنے اپنے مطلوبہ دستاویزات کا زیراکس کراتے ہوئے دیکھا گیا ۔ واضح رہے کہ مذکورہ جامع سروے کے حوالے سے جتنے منہ اتنی باتیں سننے میں آرہی ہیں ۔ مگر چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے گذشتہ روز یہ واضح کردیا ہے کہ اس حوالے سے کسی بھی طرح فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس سروے کا مقصد مستحق افراد تک سرکاری اسکیمات کا فائدہ پہنچانا ہے ۔ انہوں نے مزید واضح کردیا کہ اس سروے میں حصہ لینا یا نہ لینا آپ کی مرضی پر منحصر ہے ۔ تاہم مستقبل میں کسی بھی سرکاری اسکیمات سے وہی افراد استفادہ کرسکیں گے جنہوں نے جامع سروے میں حصہ لیا ہو ۔ دریں اثناء تلنگانہ ہوٹلس اسوسی ایشن نے 19 اگست کو ہوٹلیں بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ واضح رہے کہ اس سروے پر حکومت 20 کروڑ روپئے خرچ کررہی ہے ۔۔