نئی دہلی۔/13مارچ، ( فیکس ) شاہی امام مسجد فتحپوری دہلی مولانا مفتی محمد مکرم احمد نے آج نماز جمعہ سے قبل خطاب میں کہا کہ مذہب اسلام امن و آشتی کا مذہب ہے، وہ کسی کے مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا اور دینی معاملات میں کسی چیز جبر و کراہ کی اجازت بھی نہیں دیتا، وہ اپنی بہترین تعلیمات کی وجہ سے مقبول ہے اور مسلمان کبھی دوسرے کیلئے خطرہ نہیں بنتے۔ شاہی امام نے مرکزی وزیر داخلہ کے بیان کے حوالہ سے کہا کہ جو بھی جیلوں میں بند ہیں انہیں انصاف ملنا چاہیئے اور انصاف دلانے میں انہیں بلا سبب قید و بند کی صعوبتوں میں طویل عرصہ تک مبتلا نہیں رکھنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ سینکڑوں کی تعداد میں مسلم نوجوان جیلوں میں بند ہیں اور انصاف کے انتظار میں ہیں لیکن عدالتوں کے مقدمات کسی طرح سے ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔
ایک ایک فرد پر لاتعداد مقدمات لگائے گئے ہیں۔ بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ انصاف ملتے ملتے ان کی عمریں پوری ہوجائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف انصاف میں عیر ضروری تاخیر ہوتی ہے۔ دوسری طرف جیل میں ہی انہیں جان کا خطرہ لاحق ہے۔ اس صورتحال سے بے چینی پیدا ہونا فطری بات ہے۔ شاہی امام نے عبدالکریم ٹنڈا کی رہائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً 21سال پہلے دہلی کے جنوبی ضلع مالویہ نگر تھانہ میں ایک کیس درج کیا گیا تھا جس کے تحت عبدالکریم ٹنڈا کی گرفتاری نیپال سے عمل میں آئی تھی لیکن ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر پٹیالہ ہاؤس عدالت نے انہیں رہا کرنے کا حکم جاری کردیا۔ ایسے ہی اورنگ آباد اسلحہ ضبطی کیس میں ممبئی آرتھر روڈ جیل کی مکوما عدالت نے دو روز قبل ایک 30سالہ مسلم نوجوان خطیب عمران عقیل احمد کو ضمانت پر رہا کردیا۔ اس سے پہلے اسی کیس میں آٹھ افراد رہا کئے گئے تھے۔