بحث میں حصہ لینے سے کانگریس کا اتفاق، ہنگامہ آرائی سے گریز کیلئے حکومت کی خواہش
نئی دہلی ۔ 26 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) مسلم مردوں میں رائج تین طلاق کے عمل کو تعزیری جرم بنانے سے متعلق سیاسی طور پر حساس بل پر لوک سبھا میں جمعرات کو بحث ہوگی۔ لوک سبھا نے گذشتہ ہفتہ جمعرات کو ہی یہ فیصلہ کیا تھاکہ 27 ڈسمبر کو اس مسودہ قانون پر بحث کی جائے گی جب کانگریس نے اس پر بحث سے اتفاق کرلیا تھا۔ ایک ایسے وقت جب مسلم خواتین (تحفظ حقوق شادی) بل 2018ء پر بحث کیلئے غوروخوض کیا جارہا تھا۔ ایوان میں کانگریس کے گروپ لیڈر ملکارجن کھرگے نے اس پر آئندہ ہفتہ بحث کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ پارلیمنٹ کا اجلاس تعطیلات کے بعد 27 ڈسمبر سے دوبارہ شروع ہورہا ہے۔ وزیر پارلیمانی امور نریندر سنگھ تومر نے اپوزیشن قائدین سے اس بات پر اپوزیشن سے یقین دہانی طلب کی کہ کسی گڑبڑ و ہنگامہ آرائی کے بغیر بل پر بحث کو یقینی بنایا جائے گا۔ کھرگے نے ایوان زیریں میں کہا تھا کہ ’’آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ بل 27 ڈسمبر کو پیش کی جائے گی۔ ہم تمام اس پر بحث میں حصہ لیں گے۔ ہماری پارٹی (کانگریس) اور دیگر سیاسی جماعتیں اس پر بحث کیلئے تیار ہیں‘‘۔ بشمول رافیل معاملت مختلف مسائل پر لوک سبھا میں کانگریس کے احتجاج کے سبب مسلسل ہنگامہ آرائی دیکھی گئی ہے۔ یہ جماعت رافیل معاملت کی تحقیقات کیلئے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کررہی ہے۔ مسلم خواتین کے حقوق سے متعلق مجوزہ قانون کے تحت تین طلاق غیرقانونی، ناجائز، منسوخ و کالعدم ہوجائے گی اور اس طریقہ پر عمل کرنے والے شوہر کو تین سال کی سزائے قید ہوگی۔ تازہ ترین مسودہ قانون اس مسودہ قانون کو کالعدم کردے گا جو قبل ازیں لوک سبھا میں اگرچہ منظور ہوچکا تھا لیکن راجیہ سبھا میں زیرالتواء تھاجہاں چند اپوزیشن جماعتوں نے اس بل کی بعض دفعات پر اعتراض کے ساتھ مخالفت کی تھی۔ چنانچہ حکومت اس بل میں چند ترمیمات کی تھی اور بل کو قابل قبول بنانے کیلئے بعض نئی دفعات کا آغاز کیا گیا تھاجس کے باوجود ایوان بالا میں اپوزیشن کی مخالفت جاری رہنے کے سبب حکومت کو کوآرڈینیشن جاری کرنا پڑا تھا۔ کسی آرڈیننس کی میعاد چھ ماہ ہوتی ہے لیکن سیشن کے آغاز پر پہلے دن اس کو کسی بل کے ذریعہ بدلنا ناگزیر ہوتا ہے اور اس کو 42 دن (چھ ہفتوں) میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں منظوری ضروری ہوتی ہے۔ منظوری نہ ملنے کی صورت میں حکومت کو پھر ایک مرتبہ آرڈیننس جاری کرنے کی آزادی رہتی ہے۔