تہاڑجیل میں قیدی کو اوم کی علامت داغنے کی تحقیقات کا حکم

نئی دہلی ۔ 19 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) دہلی کی ایک عدالت نے ایک مسلم زیردریافت قیدی کو اوم کی علامت داغی گئی۔ مبینہ طور پر تہاڑ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے یہ کام کیا تھا۔ تہاڑ جیل کا زیردریافت قیدی نبیر نے اپنے ارکان خاندان سے کہا کہ اس کے جسم پر اوم کی علامت داغی گئی تھی اور اسے 12 اپریل کو دو مرتبہ غذا سے محروم رکھا گیا تھا۔ اس نے کہا کہ اس پر ظالمانہ اور غیرانسانی سلوک جیل سپرنٹنڈنٹ راجیش چوہان نے روا رکھا تھا۔ ملزم کے خاندان نے مشیرقانونی کو اس کی اطلاع دی جو عدالت سے رجوع ہوا۔ عدالت نے نبیر کے جھلس جانے کے نشانات کا معائنہ کیا اور اپنے حکمنامہ میں اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا۔ عدالت نے کہا کہ ملزم کے الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور فوری مداخلت کی ضرورت ہے۔ ڈی جی پی، قیدی، ہیڈکوارٹر جیل نمبر 4 نئی دہلی کو ملزم نبیر کے فوری طبی معائنے کا حکم دیا گیا۔ علاوہ ازیں اوم کی علامت ملزم کے جسم پر داغنے کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔ ضروری سی سی ٹی وی جھلکیاں حاصل کرلی گئیں اور دیگر قیدیوں کے بیانات لئے گئے۔ یہ ہدایت بھی دی گئی کہ ضروری انتظامات کئے جائیں تاکہ جیل میں ملزم محفوظ رہ سکے۔ اسے فوری راست یا بالواسطہ جیل سپرنٹنڈنٹ راجیش چوہان کی نگرانی سے ہٹا دیا جائے۔ یہ عدالتی حکم نامہ چہارشنبہ کے دن جاری کیا گیا اور رپورٹ جمعرات کے دن پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ رپورٹ داخل کی گئی ہے یا نہیں۔ زیردریافت قیدیوں کی جیلوں میں اذیت رسانی کی کئی رپورٹس دی گئی ہیں۔ دہشت ناک بات یہ ہیکہ قومی انسانی حقوق کمیشن نے گذشتہ سال اپریل میں کہا تھا کہ 21 زیردریافت قیدیوں کو جن کا تعلق سیمی سے تھا، اذیت رسانی کی گئی ہے، زدوکوب کیا گیا ہے اور ان کے مذہب کی بنیاد پر ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا ہے اور انہیں طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔ لا کمیشن کی 273 ویں رپورٹ میں سفارش کی گئی تھی کہ ملازمین پولیس، فوج اور نیم فوجی عملہ جس پر حراست میں اذیت رسانی کے الزامات ہیں، صرف محکمہ جاتی کارروائی کے بجائے ان پر فوجداری مقدمات دائر کئے جائیں۔ حراست میں اموات کی تشویشناک تعداد میں اطلاعات ملی ہیں۔ راجیہ سبھا میں پیش کردہ اعداد و شمار کے بموجب اس رپورٹ میں اپریل 2017ء اور فبروری 2018ء کے درمیان 1674 حراست میں اموات کے واقعات ریکارڈ کئے گئے۔