تمام مذاہب کے پیروؤں کا حملہ آوروں کے متحدہ مقابلہ کا ادعا

کھنوا (راجستھان) /20 فروری (سیاست ڈاٹ کام) مختلف مذاہب، ذات پات اور زبانوں کے باوجود خارجی حملہ آوروں کے خلاف ملک کے عوام متحد ہو گئے تھے، کیونکہ ’’ہمارے آباواجداد ایک ہی تھے‘‘۔ آر ایس ایس کے سرسنچالک موہن بھاگوت نے کہا کہ ہم سب بھارت ماتا کے پُتر ہیں، جو مختلف ثقافت، ذات پات اور مذہب کے باوجود ناقابل قیاس طویل مدت سے بقائے باہم کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے بھاگوت نے کہا کہ کھنوا میں 1527ء کی جنگ جو بابر اور رانا سانگا میں ہوئی تھی، دنیا کی تاریخ کی ایک سنگ میل تھی۔ انھوں نے کہا کہ رانا سانگا کے سورما حسن خان میواتی نے اپنی فوج میں شامل ہونے کا بابر کی پیشکش مسترد کردیا تھا، کیونکہ وہ بھارت ماتا کا پتر تھا۔ اس نے کہا کہ ذات پات، مذہب اور رنگ و نسل ضمنی باتیں ہیں، وہ سب سے پہلے بھارت ماتا کا پتر ہے۔ موہن بھاگوت نے عوام سے اپیل کی کہ معمولی معاملات پر آپس میں لڑنے کی بجائے متحد رہیں اور دنیا کو بھی اتحاد کا سبق سکھائیں۔ انھوں نے کہا کہ بلند دروازے سے بڑا سمارک (تاریخی یادگار) یہاں کھڑا ہے۔ کھنوا میں حالانکہ بعد میں رانا سانگا نے بابر کے مقابلہ میں جنگ ہار دی تھی، لیکن

اس نے ایک تاریخ بنائی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان کے پاس دنیا کی رہنمائی کی طاقت ہے، دیا تلے اندھیرا ہوتا ہے، سورج تلے نہیں ہوتا۔ ہماری قوم سورج کی طرح ہے۔ اپنی پندرہ منٹ کی تقریر میں موہن بھاگوت نے کھنوا اور مقامی عوام کی ستائش کی، جنھوں نے بھارت سے اپنی وابستگی ظاہر کرتے ہوئے ایک تاریخ بنائی ہے۔ دیگر سورماؤں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ مہاراشٹرا میں شیوا جی یا ایودھیا میں سنت ’’دیش بھگت‘‘ ہیں۔ ان کے پاس ہر حملہ آور کے لئے ایک ہی جواب تھا، وہ مذہب اور زبان کی حدود سے بالاتر ہوکر بھارت کے پتر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ملک کو اب یہی پیغام عالم انسانیت کو دینا چاہئے۔ ثقافت اور مذہب ہر معاشرے میں ہوتے ہیں، لیکن اتحاد قومیت کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ وہ ایک عوامی جلسہ سے خطاب کر رہے تھے۔