تلگو عوام کی عزت نفس اور دہلی کے گھمنڈ کے درمیان لڑائی

چوڑے پلی ( ضلع چتور ) ۔ 30 ۔ دسمبر : ( آئی این این ) : ریاست کے تمام علاقوں کے لیے انصاف سے متعلق صدر تلگو دیشم پارٹی مسٹر این چندرا بابو نائیڈو کی بلند بانگ باتوں پر تنقید کرتے ہوئے وائی ایس جگن موہن ریڈی نے کہا کہ تلگو دیشم پارٹی سربراہ نے ریاست کو متحد رکھنے کے لیے ایک لفظ نہیں کہا اور سونیا گاندھی کی مدد کررہے ہیں جو ان کے فرزند کو وزیر اعظم کے طور پر دیکھنے کے لیے ریاست کو تقسیم کرنا چاہتی ہیں ۔ یہ تلگو عوام کی عزت نفس اور دہلی کے گھمنڈ کے درمیان ایک لڑائی ہے اور چندرا بابو نائیڈو ایک طرف ریاست کی تقسیم کے لیے دہلی کی مدد کررہے ہیں تو دوسری طرف وہ تقسیم میں انصاف طلب کرنے کے بلند بانگ دعوے کررہے ہیں ۔ ان کی پرجا گرجنا یاترا میں چندرا بابو نائیڈو نے ریاست کو متحد رکھنے کے لیے ایک لفظ نہیں کہا جب کہ 70 فیصد سے زائد عوام ریاست کی تقسیم کے خلاف ہیں ۔ اپنی پرسہ یاترا کے دوران آج یہاں چتور ضلع کے چوڑے پلی میں وائی ایس آر کے مجسمہ کی نقاب کشائی کے بعد جگن موہن ریڈی نے ان سے پوچھا کہ جب ریاستی اسمبلی میں قرار داد کے بغیر مسودہ بل روانہ کیا جاتا ہے تو کیا یہ نا انصافی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی ریاست کی تقسیم اسمبلی قرار داد کے بغیر نہیں ہوئی اور قومی قائدین نے اس مسئلہ پر وائی ایس آر کانگریس پارٹی سے یگانگت کا اظہار کیا ہے ۔ لیکن نائیڈو اسے نہیں دیکھتے اور انہوں نے اس بے ضابطگی پر کبھی بات نہیں کی ۔ وہ ریاست کو جلد سے جلد تقسیم کرنے کے لیے سونیا گاندھی کی مدد کررہے ہیں ۔

جو ان کے فرزند راہول گاندھی کو وزیر اعظم بنانے کیلئے ریاست کو تقسیم کرنا چاہتی ہیں ۔ لیکن ہم کو آنے والے انتخابات میں بدعنوان کانگریس اور اخلاقی اقدار سے خالی تلگودیشم پارٹی کو ایک اچھا سبق سکھانا ہے ۔ اور انہیں ان کا مقام بتانا ہے کیوں کہ انہیں عوام کے مسائل اور ان کی مشکلات کی کوئی فکر نہیں ہے اور وہ صرف اپنا سیاسی فائدہ دیکھتے ہیں ۔ جگن موہن ریڈی نے کہا کہ سونیا گاندھی ان کے فرزند کو وزیر اعظم بنانے کے لیے ہمارے مستقبل سے کھلواڑ کررہی ہیں اور اپوزیشن قائد چندرا بابو نائیڈو ان سے سوال کرنے کے بجائے ان کی مدد کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اقدار پر مبنی سیاست شاذ و نادر ہوگئی ہے اور عوام وائی ایس آر کو ان کی موت کے چار سال بعد یاد کررہے ہیں جس سے ظاہر ہے کہ عوام کے دلوں میں ان کی جگہ ہے اور یہ خلا ابھی پر نہیں ہوا ہے ۔

قائدین ان کے وعدوں پر قائم نہیں رہ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں نے انہیں بتایا ہے کہ انہیں پانی حاصل کرنے کے لیے 100 فٹ کھدائی کرنی پڑتی ہے ۔ اگر ریاست متحد رہنے پر پانی کی صورت حال اس طرح خراب ہے تو ایک ریاست درمیان میں آئے تو کیا حال ہوگا ۔ بالائی ریاستوں مہاراشٹرا اور کرناٹک کی ضرورت پوری ہونے تک ہمیں پانی کا ایک قطرہ حاصل نہیں ہوتا ہے اگر درمیان میں ایک تیسری ریاست آگئی تو پھر یہ علاقہ ایک صحرا میں تبدیل ہوجائے گا کیوں کہ ہم کو کرشنا کا پانی حاصل نہیں ہوگا اور کپم سے سریکاکلم تک پینے کا پانی نہیں ہوگا ۔ اگر حیدرآباد ہماری حد سے باہر ہوجائے تو تعلیم یافتہ نوجوان ملازمتوں کے لیے کہاں جائیں گے ۔ تلگو دیشم قائد کی تقاریر میں سنجیدگی کا فقدان ہے اور انتخابات میں اسے ایک اچھا سبق سکھانا

Leave a Comment