تلگودیشم پارٹی کا اپنے قیام کے بعد پہلی مرتبہ تنہا مقابلہ

حیدرآباد21مارچ (یواین آئی ) تلگوعزت نفس کے نام پر قائم کردہ تلگودیشم پارٹی کے قیام کے 36برس مکمل ہوچکے ہیں۔تلگوفلموں کے مشہور اداکار این ٹی راماراو نے 29ِٓمارچ 1982کو یہ پارٹی قائم کی تھی ۔ابھی تک اس جماعت نے انتخابات میں حلیف جماعتوں کے ساتھ مل کر مقابلہ کیا ہے ۔چاہے قومی سیاست میں اہم رول ہو یا پھر ریاست کے سیاسی حالات،تلگودیشم نے ہمیشہ حلیف جماعتوں کا تعاون حاصل کیا ہے تاہم اپنے قیام کے بعد تاریخ میں پہلی مرتبہ تلگودیشم پارٹی اسمبلی انتخابات میں تنہا مقابلہ کر رہی ہے ۔ماضی میں حلیف جماعتوں کا چاہے اثر ہو یا نہ ہو ،انہیں ساتھ لے کر چلنا تلگودیشم پارٹی کا اُصول رہا تھا ۔جب بھی تلگودیشم پارٹی نے شاندار کامیابی حاصل کی ،اس کا فائدہ حلیف جماعتوں کو ہوا ۔جب بھی اس کو شکست ہوئی ،اس کا نقصان حلیف جماعت کو بھی ہوا۔1982میں پارٹی کے قیام کے بعد 1983میں پہلی مرتبہ اسمبلی انتخابات کا سامنا تلگودیشم پارٹی نے کیا ۔پارٹی نے سنجے وچار منچ نامی پارٹی سے اتحاد کیا ۔منیکا گاندھی کی زیرقیادت اس پارٹی کو تلگودیشم پارٹی کے بانی این ٹی راماراو نے اسمبلی کی پانچ نشستیں دی تھیں۔ان انتخابات میں تلگودیشم کو شاندار کامیابی ملی تھی ۔ 1984میں اندراگاندھی کے قتل کے بعد ہوئے لوک سبھا انتخابات میں اے پی کے ماسوا ملک بھر کی کئی جماعتوں کو بری طرح شکست ہوئی تھی تاہم اے پی میں تلگودیشم نے شاندار کامیابی درج کروائی تھی۔بی جے پی کو ان انتخابات میں صرف دو نشستیں ہی مل پائیں۔اس کے تلگودیشم سے اتحاد کے نتیجہ میں بی جے پی کو متحدہ اے پی کے ہنمکنڈہ لوک سبھا حلقہ سے کامیابی حاصل ہوئی اور تلگودیشم پارٹی لوک سبھا میں سب سے بڑی اپوزیشن بن گئی کیونکہ اس کو سب سے زیادہ 30نشستیں حاصل ہوئیں۔